LIVE
Loading Breaking News...

یمن حوثی بحیرہ احمر جہاز فیس تردید

News Image
یمن کے حوثیوں نے ان تمام خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ بحیرہ احمر سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر کوئی نئی فیس عائد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حوثیوں کا مؤقف ہے کہ یہ سمندری راستہ اب بھی تمام بین الاقوامی بحری جہازوں کے لیے مکمل طور پر آزاد اور محفوظ ہے۔
یمن کے حوثی گروپ نے ان تمام میڈیا رپورٹس کو یکسر مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ وہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن سے گزرنے والے بین الاقوامی بحری جہازوں سے ٹیکس یا کوئی نئی شپنگ فیس وصول کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ حوثی رہنماؤں کی جانب سے جاری کردہ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ اس قسم کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور یہ محض افواہیں ہیں۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر کا یہ اہم تجارتی راستہ اب بھی بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور اس حوالے سے کوئی نیا مالیاتی بوجھ ڈالنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ عالمی سطح پر اس سمندری راستے کی سلامتی اور تجارتی سرگرمیوں کے تسلسل کے حوالے سے خدات کا اظہار کیا جا रहा تھا، خاص طور پر اس وقت جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ تاہم، حوثی حکام کا اصرار ہے کہ ان کی پالیسیوں کا مقصد کسی بھی جائز تجارتی سرگرمی کو روکنا نہیں ہے، بلکہ وہ صرف ان بحری جہازوں کو نشانہ بناتے ہیں جن کا تعلق اسرائیل یا اس کے اتحادیوں سے ہوتا ہے جو غزہ میں محاصرے اور جنگ کا حصہ ہیں۔ اس تازہ تردید کے بعد بین الاقوامی میری ٹائم انڈسٹری نے کسی حد تک اطمینان کا سانس لیا ہے، کیونکہ پہلے ہی خطے میں سکیورٹی خدات کی وجہ سے جہازوں کی نقل و حرکت شدید متاثر ہو چکی ہے۔ تجارتی حلقے اب بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ عالمی سپلائی چین کو درپیش خطرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔