Technology
گرینڈر کا صدمہ: صارفین کا ایچ آئی وی ڈیٹا شیئر کرنے پر 26 ملین پاؤنڈز جرمانہ
مشہور ڈیٹنگ ایپ گرینڈر نے برطانوی پرائیویسی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی اور صارفین کا ایچ آئی وی اسٹیٹس تیسری پارٹی کے ساتھ شیئر کرنے کے الزامات پر 26 ملین پاؤنڈز کی ادائیگی پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ طویل عرصے سے جاری قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ ہے جس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈیٹا سکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مشہور ڈیٹنگ ایپلی کیشن گرینڈر نے برطانوی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کے ایک سنگین معاملے میں 26 ملین پاؤنڈز کی بھاری رقم بطور ہرجانہ ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایپ پر یہ الزامات عائد کیے گئے کہ اس نے اپنے صارفین کی انتہائی حساس ذاتی نوعیت کی معلومات، جن میں ان کا ایچ آئی وی (HIV) اسٹیٹس بھی شامل ہے، بغیر اجازت تیسری پارٹی کی کمپنیوں کے ساتھ شیئر کیں جو کہ صریحاً برطانوی پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی تھی۔ اس قانونی مقدمے کی طویل سماعت کے بعد دونوں فریقین کے درمیان تصفیہ طے پایا ہے، جس کے تحت متاثرہ صارفین کو ہرجانہ ادا کیا جائے گا۔ اس معاملے نے ڈیجیٹل دنیا میں صارفین کی ذاتی رازداری اور ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے گہری تشویش کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ڈیٹنگ پلیٹ فارمز پر لاکھوں افراد اپنی حساس معلومات اعتماد کے ساتھ شیئر کرتے ہیں، اور اس نوعیت کی سنگین غلطیاں یا جان بوجھ کر کیا جانے والا ڈیٹا کا اشتراک صارفین کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے۔ برطانیہ میں پرائیویسی کے قوانین انتہائی سخت ہیں اور کسی بھی فرد کی صحت سے متعلق حساس معلومات کو بغیر مرضی کے شیئر کرنا ایک بڑا قانونی جرم مانا جاتا ہے۔ گرینڈر انتظامیہ کی جانب سے اس تصفیے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں وہ اپنے پلیٹ فارم پر ڈیٹا سکیورٹی کے پروٹوکولز کو مزید سخت کریں گے تاکہ صارفین کی معلومات کو اس طرح کے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے اور اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کی دوبارہ روک تھام کی جا سکے۔ اس فیصلے کو برطانیہ میں ڈیجیٹل رائٹس اور پرائیویسی کے نفاذ کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل بھی قرار دیا جا رہا ہے، جو دیگر سوشل میڈیا اور ٹیک کمپنیوں کے لیے بھی ایک سخت وارننگ کی حیثیت رکھتا ہے کہ وہ صارفین کے ڈیٹا کے ساتھ احتیاط برتیں۔