Business
نیکسٹ ریٹیل مساوی تنخواہ اپیل کیس کا فیصلہ
برطانیہ کے معروف ریٹیل برانڈ نیکسٹ نے گودام کے ملازمین کی مساوی تنخواہ سے متعلق تیس ملین پاؤنڈ کا اہم مقدمہ جیت لیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ گودام کے کارکنوں کو زیادہ تنخواہ دینا جائز ہے کیونکہ وہاں بھرتی اور ملازمین کو برقرار رکھنا زیادہ مشکل ہے۔
برطانیہ کے مشہور فیشن اور ریٹیل برانڈ نیکسٹ نے مساوی تنخواہ کے ایک بڑے قانونی تنازع میں اہم کامیابی حاصل کر لی ہے۔ عدالت نے کمپنی کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے اس تیس ملین پاؤنڈ کے سابقہ فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس میں دکانوں اور گوداموں کے عملے کی تنخواہوں میں توازن لانے کا کہا گیا تھا۔ اس عدالتی فیصلے سے ریٹیل انڈسٹری میں ملازمین کی تنخواہوں کے ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کمپنی کے لیے گودام کے ورکرز کو زیادہ اجرت دینا مکمل طور پر معاشی حقائق کے عین مطابق ہے۔ جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ گوداموں کے لیے افرادی قوت تلاش کرنا اور انہیں طویل عرصے تک اپنے ساتھ وابستہ رکھنا دکانوں کے عملے کی نسبت زیادہ مشکل کام ہے۔ اس لیے مارکیٹ کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ تنخواہی فرق غیر قانونی نہیں ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد برطانیہ کے دیگر بڑے ریٹیلرز کے لیے بھی اسی طرح کے کیسز میں دفاع کرنا آسان ہو جائے گا۔ اس سے قبل یونینز کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ گودام کے ملازمین اور فروخت گاہوں کے ملازمین کے درمیان کام کی نوعیت کے باوجود تنخواہ کا فرق امتیازی سلوک کے زمرے میں آتا ہے۔ تاہم عدالت نے نیکسٹ کے اس دفاع کو تسلیم کر لیا کہ مارکیٹ میں مزدوروں کی کمی اور بھرتی کے اخراجات کی وجہ سے ان کے پاس تنخواہوں کی سطح میں فرق رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ کمپنی کی انتظامیہ نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ مزدور یونینز کی طرف سے اس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کو برطانوی لیبر مارکیٹ میں ایک اہم قانونی نظیر کے طور پر دیکھا جائے گا جس سے دیگر کاروباری اداروں کو بھی رہنمائی ملے گی۔