LIVE
Loading Breaking News...

اویسس ڈاکومینٹری: بینڈ کی واپسی اور ان کہی کہانیاں

News Image
مشہور بینڈ اویسس کی واپسی پر بنائی گئی نئی دستاویز فلم شائقین کو بینڈ کے شاندار کم بیک کے جذبے سے روشناس کراتی ہے۔ تاہم، یہ فلم اس طویل اور پیچیدہ عمل کو تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے جس کے باعث یہ ری یونین ممکن ہو سکی تھی۔
برطانوی موسیقی کی دنیا کے انتہائی مقبول اور متنازعہ بینڈ ’اویسس‘ (Oasis) کے حوالے سے ریلیز ہونے والی نئی دستاویز فلم نے شائقین اور ناقدین کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس فلم میں بینڈ کی شاندار واپسی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے جوش و خروش کو انتہائی مؤثر انداز میں عکس بند کیا گیا ہے۔ شائقین کے لیے یہ مناظر انتہائی جذباتی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ وہ اپنے پسندیدہ فنکاروں کو ایک طویل عرصے کے بعد دوبارہ ایک ساتھ اسٹیج پر یا موسیقی کی دنیا میں سرگرم دیکھتے ہیں۔ فلم سازوں نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ناظرین کو اس تاریخی لمحے کا بھرپور احساس ہو اور وہ اس جوش و خروش کا حصہ بن سکیں جو اس کم بیک کے دوران فضا میں محسوس کیا جا رہا تھا۔ تاہم، اس تمام تر شاندار پیشکش اور جذباتی مناظر کے باوجود اس دستاویز فلم کو اہم تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ فلم کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ محض اویسس کی واپسی کی ظاہری خوشیوں اور سنسنی خیز لمحوں تک محدود رہتا ہے، جب کہ اس نے ان گہرے حقائق اور پس منظر کی کہانیوں کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے جو اس ری یونین کے پیچھے کارفرما تھیں۔ شائقین اور مبصرین یہ جاننے کے خواہشمند تھے کہ آخر وہ کون سے عوامل تھے جنہوں نے اتنی تلخی کے بعد ان بھائیوں کو دوبارہ ایک اسٹیج پر آنے پر آمادہ کیا۔ بدقسمتی سے، فلم میں اس طویل اور پیچیدہ عمل کی کوئی گہرائی سے عکاسی نہیں کی گئی جو اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری تھی۔ مجموعی طور پر، اگرچہ یہ دستاویز فلم ایک بہترین تفریحی تجربہ فراہم کرتی ہے اور پرانی یادوں کو تازہ کرتی ہے، لیکن یہ اس تاریخی موقع کی مکمل اور متوازن تصویر پیش کرنے میں کہیں نہ کہیں ناکام رہتی ہے۔ موسیقی سے لگاؤ رکھنے والے افراد اس کے جذباتی پہلوؤں سے ضرور لطف اندوز ہوں گے، مگر حقیقت پسندانہ صحافتی یا دستاویزی معیار کے لحاظ سے یہ کچھ اہم سوالات کے جوابات تشنہ چھوڑ جاتی ہے۔