World
برطانیہ: پب میں دھکا دیے جانے سے 102 سالہ معمر شخص جاں بحق
برطانیہ میں ڈیمنشیا کے مرض میں مبتلا 102 سالہ فلپ اورمرود ایک پب میں دھکا دیے جانے کے بعد ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ انکوائری میں ان کی موت کے دردناک واقعے کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں جن کی تحقیقات جاری ہیں۔
برطانیہ سے ایک انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں 102 سالہ فلپ اورمرود، جو کہ ڈیمنشیا کے مرض میں مبتلا تھے، ایک پب میں مبینہ طور پر دھکا دیے جانے کے نتیجے میں شدید زخمی ہو گئے اور بعد ازاں ہسپتال میں دورانِ علاج جاں بحق ہو گئے۔ اس المناک واقعے کے حوالے سے شروع کی گئی انکوائری میں ہوشربا تفصیلات سامنے آ رہی ہیں جنہوں نے مقامی برادری اور شہریوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات اور عدالتی انکوائری کے دوران معلوم ہوا ہے کہ فلپ اورمرود کو پب کے اندر کسی نامعلوم تنازع یا حادثے کے دوران دھکا دیا گیا، جس کی وجہ سے وہ سنبھل نہ سکے اور شدید چوٹوں کا شکار ہو گئے۔ ان کی عمر زیادہ ہونے اور پہلے سے ہی ڈیمنشیا میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کا جسم اس شدید چوٹ کو برداشت نہ کر سکا۔ واقعے کے فوراً بعد انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کی سرتوڑ کوشش کی۔
ہسپتال میں کئی روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد فلپ اورمرود زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی موت کی بنیادی وجہ صدمہ اور وہ شدید چوٹیں تھیں جو انہیں پب کے اندر گرنے کے دوران آئیں۔ پولیس اور متعلقہ تحقیقاتی ادارے اس بات کی گہرائی سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں کہ آخر پب کے اندر ایسا کیا ہوا تھا اور اس معمر اور بے بس شخص کو دھکا دینے کے پیچھے کون ذمہ دار تھا۔
اس واقعے کے بعد سے عوامی حلقوں میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے اور بزرگ شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک بار پھر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ڈیمنشیا کے مریضوں کو لاحق خطرات اور پب جیسی جگہوں پر سیکیورٹی کے انتظامات پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔ انکوائری کمیٹی تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں اور ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔