Business
برطانوی چانسلر کی معاشی تقریر اور ٹیکسوں کا مستقبل
برطانیہ کے چانسلر جان ہیلی نے اپنی پہلی اہم معاشی تقریر میں ملک کی معیشت میں مثبت توانائی اور اعتماد بحال کرنے پر زور دیا ہے۔ معاشی ماہرین یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا اس مثبت سوچ سے آئندہ ٹیکسوں میں ممکنہ اضافے کو محدود کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
برطانیہ کے چانسلر جان ہیلی نے اپنی پہلی بڑی معاشی تقریر میں ملک کے اندر معاشی اعتماد کو فروغ دینے اور ایک مثبت ماحول پیدا کرنے پر خصوصی زور دیا ہے۔ ان کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملکی معیشت کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اور عام عوام کے ساتھ ساتھ کاروباری حلقے بھی آئندہ مالیاتی فیصلوں کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ چانسلر کی جانب سے پیدا کی جانے والی یہ مثبت لہر معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، جس سے مارکیٹ کے اندر اعتماد کی بحالی کی توقع کی جا رہی ہے۔ تقریر کا بنیادی مقصد سرمایہ کاروں اور شہریوں کو یہ یقین دلانا تھا کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے درست سمت میں گامزن ہے۔
تاہم، اس تمام صورتحال کے درمیان یہ سوال بدستور اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا اس نوعیت کے مثبت بیانات اور معاشی وژن سے عام شہریوں پر ٹیکسوں کے بھاری بوجھ کو محدود کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ حکومت کو اپنے اخراجات پورے کرنے اور خسارے کو کم کرنے کے لیے آمدنی کے ذرائع درکار ہیں، اور ماہرین کا خیال ہے کہ محض مثبت جذبات سے مالیاتی خلیج کو پُر کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ ٹیکسوں میں اضافے کے امکانات پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین کا ماننا ہے کہ حکومت کو طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے سخت فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں، چاہے وہ سیاسی طور پر کتنے ہی غیر مقبول کیوں نہ ہوں۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ معاشی بحالی کا عمل طویل اور صبر آزما ہے، جس کے لیے عوام اور کاروباری طبقے دونوں کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ چانسلر جان ہیلی کا یہ خطاب ایک ایسے بیانیے کی تشکیل کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں مایوسی کے بجائے امید کے ذریعے معیشت کو چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ پالیسی ٹیکسوں میں اضافے کی رفتار کو سست کرنے یا انہیں محدود رکھنے میں کتنی مؤثر ثابت ہوتی ہے، اور آیا مارکیٹ اس مثبت پیغام کا کیا ردعمل ظاہر کرتی ہے۔