LIVE
Loading Breaking News...

شام: بشار الاسد دور کا جنرل مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے الزام میں گرفتار

News Image
شام کی سکیورٹی فورسز نے میجر جنرل محمد علی درغام کو حراست میں لے لیا ہے، جن پر سنہ 2011 کے احتجاجی مظاہروں اور ماضی کے خونریز واقعات میں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کا الزام ہے۔ موصوف پر طویل عرصے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جا رہے تھے۔
شام میں حکام نے سابق صدر بشار الاسد کے دور حکومت سے تعلق رکھنے والے ایک اہم اور طاقتور فوجی جنرل کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ہونے والے اہلکار کی شناخت میجر جنرل محمد علی درغام کے طور پر کی گئی ہے جن پر طویل عرصے سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور ماضی کے خونریز واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ گرفتاری ملک میں جاری نئی سکیورٹی اور سیاسی پیش رفت کا حصہ ہے جس کا مقصد سابقہ دور میں ہونے والے مظالم کی تحقیقات کو آگے بڑھانا ہے۔ میجر جنرل محمد علی درغام پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ سنہ 2011 میں ملک بھر میں پھوٹ پڑنے والے عوامی احتجاجی مظاہروں کے دوران پرتشدد کریک ڈاؤن کے مرکزی کرداروں میں شامل تھے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کی نگرانی کی جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور انسانی بحران پیدا ہوا۔ اس کے علاوہ ان کا نام ماضی کے دیگر تاریخی اور متنازع واقعات سے بھی جوڑا جاتا رہا ہے جن میں مبینہ طور پر ریاستی تشدد کے ذریعے اختلافِ رائے کو کچلا گیا تھا۔ اس گرفتاری کو شام کے سیاسی اور عدالتی منظر نامے میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ ملک طویل خانہ جنگی کے بعد اب ایک کٹھن تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور متاثرہ خاندان طویل عرصے سے یہ مطالبہ کرتے آئے ہیں کہ سابقہ حکومت کے دوران ہونے والے جرائم میں ملوث اعلیٰ عہدیداروں کا احتساب کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات ملک میں قانون کی حکمرانی اور مستقبل کے سیاسی استحکام کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ آئندہ دنوں میں میجر جنرل محمد علی درغام کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز کیے جانے کا امکان ہے، جہاں ان پر عائد کردہ الزامات کی باضابطہ سماعت کی جائے گی۔ شام کے عوام اور دنیا بھر کی نظریں اس مقدمے پر مرکوز ہیں کیونکہ یہ اس بات کا اشارہ ہو گا کہ نیا نظام ماضی کے تلخ ابواب سے کس طرح نبردآزما ہوتا ہے اور متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے کس حد تک عملی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں۔