World
اسرائیل کا ای ون منصوبہ اور مغربی کنارے کی تقسیم کا خطرہ
اسرائیل کے متنازع ای ون منصوبے کی وجہ سے مقبوضہ مغربی کنارے کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس پیش رفت سے خطے میں دو ریاستی حل کے امکانات کو شدید دھکا لگ سکتا ہے۔
اسرائیل کا متنازع ای ون (E1) منصوبہ ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر شدید بحث کا موضوع بن گیا ہے، جس کے تحت مقبوضہ مغربی کنارے کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کا نمایاں خطرہ لاحق ہے۔ ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد سے فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی حیثیت یکسر بدل جائے گی اور مستقبل میں ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات تقریباً ختم ہو جائیں گے۔
یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی شدید تناؤ پایا جاتا ہے اور سفارتی سطح پر امن کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ ای ون منصوبے کے تحت مقبوضہ بیت المقدس کے قریب یہودی بستیوں کی توسیع کی جانی ہے، جس سے شمالی اور جنوبی مغربی کنارے کے درمیان براہ راست زمینی رابطہ منقطع ہو جائے گا۔ اس تقسیم کے نتیجے میں فلسطینی آبادی کے لیے نقل و حرکت انتہائی محدود ہو جائے گی اور روزمرہ کی زندگی شدید متاثر ہوگی۔
بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ نے طویل عرصے سے اس طرح کے استعماری اقدامات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور انہیں بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے منصوبے خطے میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور اس سے دو ریاستی حل کا نظریہ ہمیشہ کے لیے دفن ہو سکتا ہے۔
فلسطینی قیادت اور مختلف عالمی رہنماؤں نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اس منصوبے کو فوری طور پر ترک کرے تاکہ خطے میں مزید کشیدگی اور خون خرابے سے بچا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سفارتی محاذ پر مزید گرما گرمی دیکھنے میں آ سکتی ہے کیونکہ یہ مسئلہ خطے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔