LIVE
Loading Breaking News...

راتکو ملاڈک کا جنازہ سربیا میں ادا، ہزاروں افراد شریک

News Image
سربیا میں جنگی جرائم کے مجرم قرار دیے جانے والے راتکو ملاڈک کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
سربیا میں جنگی جرائم کے مجرم کے طور پر جانے جانے والے راتکو ملاڈک کے انتقال کے بعد ان کی آخری رسومات اور جنازے کا انعقاد کیا گیا جس میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس اجتماع کے دوران سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ علاقے میں امن و امان کی صورتحال برقرار رہے اور کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔ راتکو ملاڈک کا نام بلقان کی جنگوں اور خاص طور پر بوسنیا کے تنازع کے دوران ہونے والے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے تناظر میں انتہائی متنازعہ رہا ہے۔ بین الاقوامی عدالتوں کی جانب سے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے الزامات کے تحت سزائیں پانے والے اس شخص کے جنازے میں شرکت کرنے والے افراد نے ان کی حمایت میں نعرے بازی بھی کی۔ ان واقعات نے خطے میں ایک بار پھر پرانی کشیدگی اور ماضی کے زخموں کو تازہ کر دیا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور متاثرہ خاندانوں نے اس اجتماع کو افسوسناک قرار دیا ہے کیونکہ اس طرح کے اجتماعات سے متاثرہ افراد کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ دوسری جانب سربیا کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امن و امان کی بحالی کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز اقدام کو سختی سے نمٹا جائے گا۔ اس جنازے کے بعد خطے میں سیاسی اور سفارتی حلقوں میں ایک بار پھر بحث شروع ہو گئی ہے کہ کس طرح بلقان کی جنگوں کے تلخ ماضی کو پیچھے چھوڑ کر امن اور مفاہمت کی طرف بڑھا جائے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے واقعات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ ماضی کے تنازعات کے اثرات اب بھی معاشرے میں گہرے طور پر موجود ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے مزید وقت اور سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔