LIVE
Loading Breaking News...

فلسطینیوں کی ابتر صورتحال اور بورڈ آف پیس کے دعوے۔ نکسورا نیوز

News Image
انسانی حقوق کی عہدیدار ایتھینا رے برن نے اسرائیلی حربوں کا تنقیدی جائزہ لیا ہے جو لاکھوں فلسطینیوں کی زندگی کو انتہائی کٹھن بنا رہے ہیں۔ بورڈ آف پیس کی جانب سے ترقی کے دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر ایک طرف جہاں بورڈ آف پیس کی جانب سے مسلسل امن اور ترقی کے دعوے کیے جا رہے ہیں، وہیں دوسری جانب زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس نظر آتے ہیں۔ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں عام شہریوں کی زندگی روز بروز انتہائی ابتر اور ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے، جس پر عالمی برادری کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انسانی امور کی اہم عہدیدار ایتھینا رے برن نے حال ہی میں اسرائیلی حربوں کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے اور واضح کیا ہے کہ کس طرح کی پالیسیاں لاکھوں فلسطینیوں کی زندگی کو جہنم بنا رہی ہیں۔ ان کے مطابق، زمینی حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں جہاں بنیادی انسانی حقوق کا حصول بھی محال ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکومت کی طرف سے عائد کردہ سخت پابندیوں اور جارحانہ اقدامات نے فلسطینی آبادی کے لیے زندگی گزارنے کے تمام ذرائع مسدود کر دیے ہیں۔ روزمرہ کی اشیاء، علاج معالجے کی سہولیات اور بنیادی انفراسٹرکچر کی تباہی نے انسانی بحران کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔ دوسری جانب، سفارتی حلقوں میں بورڈ آف پیس کی کارکردگی اور اس کی پیشرفت کے بلند و بانگ دعوے محض کاغذی کارروائی معلوم ہوتے ہیں کیونکہ عام فلسطینی کو ریلیف دینے میں یہ ادارے تاحال ناکام رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ظالمانہ حربوں کو روکا نہیں جاتا، اس وقت تک کسی بھی امن کوشش یا ترقیاتی دعوے کی کوئی حقیقت نہیں ہو گی۔ عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں اور فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔