LIVE
Loading Breaking News...

بولیویا دھماکے: ہلاکتیں سات ہو گئیں، لاپتہ فوجیوں کی تلاش

News Image
بولیویا کے دارالحکومت کے قریب ایک فوجی اڈے پر ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔ صدر روڈریگو پاز نے ملک میں سوگ کا اعلان کرتے ہوئے اس مشکل وقت میں اتحاد پر زور دیا ہے۔
لاپاز کے قریب واقع ایک اہم فوجی اڈے پر ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں کے بعد صورتحال تاحال کشیدہ اور غم ناک بنی ہوئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس دلخراش واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر سات تک پہنچ گئی ہے جبکہ سکیورٹی فورسز اور امدادی ٹیمیں اب بھی لاپتہ ہونے والے فوجیوں کی تلاش اور بچاؤ کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن چلا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔ اس ناگہانی سانحے کے بعد بولیویا کے صدر روڈریگو پاز نے ملک بھر میں سرکاری سطح پر قومی سوگ کا اعلان کیا ہے تاکہ اس قومی المیے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔ اپنے ایک اہم پیغام میں صدر نے پوری قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کڑے وقت میں کسی بھی سیاسی یا گروہی تقسیم سے بالاتر ہو کر باہم متحد رہیں اور متاثرہ خاندانوں کی ڈھارس بندھائیں۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ حکومت لاپتہ اہلکاروں کے لواحقین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور تمام تر وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ادھر دفاعی ماہرین اور فرانزک ٹیموں نے واقعے کی جگہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ دھماکے کسی حادثاتی تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھے یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات کارفرما تھے۔ فوج کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بھی ایک آزادانہ تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اشارہ دیا گیا ہے جو اس پورے واقعے کی تہہ تک پہنچ کر اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ عوام اور سکیورٹی حلقوں کی نظریں اب امدادی ٹیموں کی کارروائیوں اور تحقیقاتی کمیشن کی پیش رفت پر مرکوز ہیں تاکہ اس حادثے کی اصل وجوہات سامنے آ سکیں۔