World
نائیجیریا میں مہنگائی اور خوراک کا بحران
نائیجیریا میں شدید مہنگائی کی وجہ سے عام شہریوں کے لیے روزمرہ کا کھانا پکانا بھی انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ جو شوربہ کبھی پانچ ہزار نائرا میں تیار ہوتا تھا، اب اس کے لیے دس ہزار نائرا بھی ناکافی ہیں۔
نائیجیریا میں جاری شدید اقتصادی بحران اور مہنگائی کی لہر نے عام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، جہاں اب ایک وقت کا کھانا تیار کرنا بھی غریب اور متوسط طبقے کے لیے کسی عیش و آرام سے کم نہیں رہا۔ ملک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے نے شہریوں کی کمر توڑ دی ہے اور گھریلو بجٹ مکمل طور پر درہم برہم ہو چکا ہے۔ صورتحال اتنی ابتر ہو چکی ہے کہ جو بنیادی اخراجات چند ماہ قبل تک آسانی سے پورے ہو جاتے تھے، اب ان کے لیے دوگنا سے بھی زیادہ رقم درکار ہے۔
اس سنگین صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نائیجیریا کے عام گھرانوں میں جو شوربہ یا ہنڈیا پہلے پانچ ہزار نائرا میں باآسانی تیار ہو جاتی تھی، اب موجودہ حالات میں دس ہزار نائرا بھی اس کے لیے پورے نہیں پڑتے۔ آٹا، تیل، سبزیوں اور گوشت سمیت تمام بنیادی اشیاء کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کے لیے اپنے بچوں کا پیٹ بھرنا ایک روزانہ کا چیلنج بن گیا ہے۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ تنخواہیں وہیں کی وہیں ہیں جبکہ مہنگائی کی رفتار نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق، مقامی کرنسی کی قدر میں کمی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین کے مسائل نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے دعوے زمینی حقائق کے سامنے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں کیونکہ مارکیٹ میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو آنے والے دنوں میں غذائی قلت کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے، جس سے نائیجیریا کے لاکھوں گھرانے براہِ راست متاثر ہوں گے۔
عوام نے حکومت سے فوری طور پر مداخلت کرنے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو غریب عوام کے پاس زندہ رہنے کے لیے بھی وسائل نہیں بچیں گے۔ نائیجیریا کا یہ اقتصادی بحران اس وقت پورے خطے میں ایک سنگین انسانی اور معاشی مسئلہ بنتا جا رہا ہے جس پر فوری توجہ کی اشد ضرورت ہے۔