World
برطانیہ کا اسرائیل کے خلاف غیر قانونی بستیوں پر اہم قدم کا فیصلہ
فلسطینیوں پر بڑھتے ہوئے تشدد کے پیش نظر برطانیہ اسرائیل کے خلاف نئے اقدامات اٹھانے کی تیاری کر رہا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں تبدیلی اور تنزلی دیکھنے میں آئی ہے۔
برطانیہ اور اسرائیل کے روایتی تعلقات میں حالیہ عرصے کے دوران نمایاں تنزلی دیکھنے میں آئی ہے، اور اب لندن انتظامیہ نے مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف نئے اقدامات اٹھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پالیسی بیانات اور عملی اقدامات میں واضح فرق پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے باہمی سفارت کاری میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ فلسطینی آبادی پر ہونے والے بڑھتے ہوئے تشدد اور انسانی حقوق کی صورتحال نے برطانوی حکومت کو اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف زیادہ سخت موقف اختیار کرے۔ برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ناگزیر ہے اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع دو ریاستی حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس تناظر میں، برطانیہ کی جانب سے متوقع نئے اقدامات کا مقصد ان افراد اور اداروں پر دباؤ بڑھانا ہے جو ان بستیوں کی تعمیر اور فلسطینیوں کے خلاف پُرتشدد کارروائیوں میں براہ راست ملوث ہیں۔ دوسری جانب، اس پیش رفت سے تل ابیب میں سخت ردعمل کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، کیونکہ اسرائیل اپنے اندرونی معاملات میں بیرونی مداخلت اور سفارتی دباؤ کو مسترد کرتا آیا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر برطانیہ عملی طور پر پابندیوں یا دیگر تادیبی کارروائیوں کا آغاز کرتا ہے، تو اس کے اثرات صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کی سیاست پر مرتب ہوں گے۔ آنے والے ہفتوں میں اس حوالے سے مزید اہم اعلانات متوقع ہیں، جن پر عالمی برادری کی بھی گہری نظر ہے۔