World
روس اور شمالی کوریا کے تعلقات میں نیا موڑ، روڈ برج تعمیر
روس اور شمالی کوریا نے یوکرین پر روسی حملے کے بعد اپنے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا شروع کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین اس تعاون کی عکاسی ایک علامتی روڈ برج کی تعمیر سے ہوتی ہے۔
ماسکو اور پیانگ یانگ کے درمیان تعلقات میں حالیہ عرصے کے دوران نمایاں گہرائی اور وسعت دیکھنے میں آئی ہے، خاص طور پر جب سے روس نے یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ دونوں ممالک کی قیادت نے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے مختلف شعبوں میں رابطے تیز کر دیے ہیں، جن میں سفارتی، معاشی اور دفاعی امور شامل ہیں۔ اس بڑھتی ہوئی قربت کا ایک عملی مظہر دونوں ممالک کے درمیان ایک نئے علامتی روڈ برج کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ یہ پل نہ صرف جغرافیائی طور پر دونوں ملکوں کو قریب لائے گا بلکہ سیاسی اور علامتی اعتبار سے بھی اس بات کا غماز ہے کہ دونوں دارالحکومت عالمی دباؤ کے باوجود اپنے تعلقات کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ یوکرین کی جنگ کے بعد روس کو عالمی سطح پر تنہائی کا سامنا ہے، جس کے پیش نظر ماسکو نے ایشیائی ممالک بالخصوص شمالی کوریا کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات کو از سر نو زندہ کرنے اور انہیں مزید مضبوط بنانے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ دوسری طرف، شمالی کوریا بھی اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر اپنی تنہائی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس روڈ برج کی تعمیر دونوں ممالک کے مابین زمینی رابطوں اور تجارت کو بہتر بنانے کی سمت میں ایک علامتی قدم تصور کیا جا رہا ہے، جس پر عالمی برادری کی بھی گہری نظریں لگی ہوئی ہیں۔