Pakistan
پی ٹی آئی کا نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی تقسیم پر اہم مؤقف
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے خبردار کیا ہے کہ عوام کی رضامندی کے بغیر سندھ کی تقسیم یا نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جلد بازی میں کیا جانے والا فیصلہ ملک اور وفاق کو کمزور کر دے گا۔ ان کا یہ بیان ملک میں نئے صوبوں کے حوالے سے جاری سیاسی بحث اور مختلف رہنماؤں کے بیانات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام یا کسی بھی انتظامی تبدیلی کے حوالے سے کوئی بھی جلد بازی والا فیصلہ وفاق کو کمزور کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے حساس اور دور رس نتائج کے حامل معاملات پر تمام فریقین اور عوام کی مکمل رائے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ملک پہلے ہی مختلف سیاسی و معاشی بحرانوں سے گزر رہا ہے، ایسے میں آئینی حدود اور عوامی مینڈیٹ سے ہٹ کر اٹھائے جانے والے اقدامات قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب ملک کے مختلف سیاسی حلقوں میں نئے صوبوں کے قیام بالخصوص سندھ کی تقسیم کے حوالے سے بحث نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا ہے۔ حال ہی میں بعض سیاسی رہنماؤں اور حکومتی شخصیات کی جانب سے اس موضوع پر بیانات سامنے آئے ہیں جن پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن اور دیگر سیاسی شخصیات بھی اس بحث میں پیش پیش ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نقشے میں تبدیلی کو محض انتظامی اصلاحات کے طور پر پیش کرنے سے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیے گہرے اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے۔پی ٹی آئی قیادت کا یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ سندھ یا کسی بھی دوسرے صوبے کی تقسیم کا فیصلہ اگر متعلقہ عوام اور اسمبلیوں کی حقیقی رضامندی کے بغیر زبردستی مسلط کیا گیا تو اس سے صوبائی و وفاقی ہم آہنگی کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، صوبوں کی تشکیل یا ردوبدل کا عمل انتہائی پیچیدہ ہے جس کے لیے آئینی طریقہ کار اور سیاسی بلوغت ناگزیر ہے۔ پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں کسی بھی بڑی آئینی یا جغرافیائی تبدیلی سے پہلے قومی سطح پر وسیع تر مشاورت کا آغاز کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے فکری تفرقے یا سیاسی کشیدگی سے بچا جا سکے۔