World
شیخ حسینہ کے سزائے موت کے خلاف اپیل کا حق ختم، بنگلہ دیشی پراسیکیوٹر کا بیان
بنگلہ دیشی حکام کے مطابق سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے پاس اب سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا کوئی حق باقی نہیں رہا۔ چیف پراسیکیوٹر نے واضح کیا ہے کہ قانونی مدت گزر جانے کے بعد اپیل کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے جہاں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (ICT) کے فیصلے کے بعد ان کے پاس سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کرنے کا حق ختم ہو چکا ہے۔ یہ بات بنگلہ دیش کے چیف پراسیکیوٹر کی جانب سے کہی گئی ہے جن کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق ٹریبونل کے فیصلے کے تیس دن کے اندر اپیل دائر کی جانی لازمی تھی، لیکن یہ مدت اب گزر چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب شیخ حسینہ کے پاس قانونی چارہ جوئی کا کوئی اور موقع باقی نہیں بچا۔ اس کے علاوہ عبوری حکومت کی جانب سے دیگر قانونی کارروائیوں کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے جس میں سابق حکومت کے اہم عہدیداران اور شخصیات کے خلاف فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ چیف پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ اس سلسلے میں سابق حکومتی اقدامات اور قانونی ضابطوں کی سختی سے جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب حکام کی جانب سے شیخ حسینہ اور ان کے قریبی رفقاء کے اثاثے ضبط کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے عدالتی احکامات کی روشنی میں جائیدادوں کی ضبطی کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ملک کے سیاسی و قانونی حلقوں میں اس پیشرفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔