LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ مذاکرات کے باوجود روس یوکرین جنگ جاری رکھے گا

News Image
امریکہ کی جانب سے امن کی کوششوں اور کیف میں اہم ملاقاتوں کے باوجود کریملن نے یوکرین میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی امریکی ایلچیوں سے بات چیت کے بعد جنگ کے طویل ہونے کی توقع ظاہر کی ہے۔
ماسکو: امریکہ کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، تاہم کریملن نے واضح کیا ہے کہ وہ یوکرین میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بلومبرگ اور دیگر عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکی ایلچیوں نے حالی دنوں میں کیف کا دورہ کیا اور یوکرینی قیادت کے ساتھ امن عمل کے حوالے سے اہم بات چیت کی ہے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ دوسری جانب، امریکی نمائندوں اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان بھی آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے ممکنہ راستے تلاش کیے جا سکیں۔ اس تمام صورتحال کے باوجود، یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ امریکی ایلچیوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے باوجود جنگ کا سلسلہ ابھی جاری رہے گا۔ امریکی ٹیم کے رکن نے کیف کے دورے کے بعد ایک اچھے حل کی توقع کا اظہار کیا ہے، لیکن زمینی حقائق اور ماسکو کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تنازع کا فوری حل تاحال ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کے انعقاد پر زور دیا جا رہا ہے، تاکہ خونریز جنگ کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے ختم کیا جا سکے۔