LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ: پورٹسماؤتھ احتجاج میں تشدد پر وزراء کا ردعمل

News Image
برطانوی وزیر سارہ جونز نے پورٹسماؤتھ میں تارکین وطن کی آمد کے خلاف ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی شدید مذمت کی ہے۔ اس موقع پر پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے اور مظاہرین کی غنڈہ گردی کو خوفناک قرار دیا گیا ہے۔
برطانوی وزیر سارہ جونز نے پارلیمنٹ کے اراکین (ایم پیز) سے خطاب کرتے ہوئے پورٹسماؤتھ میں مہاجرین کے خلاف ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہرے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج انتہائی شرمناک تھا جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا اور صورتحال کو جان بوجھ کر خراب کیا گیا۔ یہ ہنگامہ آرائی اس وقت شروع ہوئی جب ایک ہی ربڑ کی کشتی (ڈنگھی) کے ذریعے تقریبا 120 تارکین وطن اس علاقے میں پہنچے تھے۔ تارکین وطن کی اچانک آمد نے مقامی سطح پر کشیدگی کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں کشیدہ صورتحال نے پرتشدد احتجاج کی شکل اختیار کر لی۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران ہونے والی بدنظمی میں کئی پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے جو امن و امان کی بحالی کے لیے موقع پر موجود تھے۔ وزیر موصوف نے پولیس اہلکاروں پر حملوں اور مظاہرین کے جارحانہ رویے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ڈراونا اور غنڈہ گردی قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج کا حق سب کو حاصل ہے، تاہم قانون کو ہاتھ میں لینا، پولیس پر حملے کرنا اور خوف و ہراس پھیلانا ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکومت نے اس بات کا عزم ظاہر کیا ہے کہ قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ناخوشگوار واقعات کو روکا جا سکے۔ حکام کی جانب سے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ ہنگامہ آرائی کرنے والے مرکزی عناصر اور فسادیوں کی شناخت کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، پورٹسماؤتھ اور اس کے گردونواح میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ نئے احتجاج یا ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ مقامی انتظامیہ اور پولیس حکام نے شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے جبکہ سیاسی رہنماؤں نے بھی معاشرے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے باہمی رواداری اور قانون کے احترام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔