LIVE
Loading Breaking News...

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسکول کے بچوں پر حملوں کا خطرہ اور والدین کی تشویش

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی وجہ سے فلسطینی والدین اپنے بچوں کے اسکول جانے پر شدید خوف کا شکار ہیں۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر نے رواں برس تین طلباء کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی بہتر بنانے کی غرض سے خاردار تاریں نصب کر دی ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں کشیدہ صورتحال اور اسرائیلی آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں نے فلسطینی والدین کو اپنے بچوں کی جان و مال کے حوالے سے شدید خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ تعلیمی اداروں کے اردگرد بڑھتے ہوئے خطرات کی وجہ سے بچوں کا اسکول جانا ایک روزانہ کا خوفناک تجربہ بن چکا ہے، جہاں والدین ہر لمحہ اپنے بچوں کی خیریت کے لیے دعاگو رہتے ہیں۔ حالیہ پرتشدد واقعات کے دوران رواں برس کے آغاز سے اب تک مبینہ طور پر تین معصوم طلباء کی ہلاکت نے اس خطے کے تعلیمی نظام اور بچوں کی سلامتی پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ان دلخراش واقعات کے بعد مقامی اسکولوں کی انتظامیہ اور والدین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ تعلیمی ادارے جو کبھی امن اور علم کی جگہیں تھیں، اب سکیورٹی خدات کی زد میں ہیں۔ اسی صورتحال کے پیش نظر مقبوضہ علاقے کے ایک اسکول کے پرنسپل نے انتہائی اقدام کے طور پر احاطے کے گرد نئی اور مضبوط خاردار تاریں نصب کر دی ہیں تاکہ طلباء کو بیرونی حملوں اور خطرات سے کسی حد تک محفوظ رکھا جا سکے تاہم یہ حفاظتی اقدامات بڑھتے ہوئے خوف کا مکمل مداوا نہیں بن سکتے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسکول کے بچوں کو اس قسم کے پرتشدد ماحول سے بچانے کے لیے فوری بین الاقوامی مداخلت کی ضرورت ہے۔ والدین کا مطالبہ ہے کہ عالمی برادری کو اس سنگین مسئلے پر خاموشی توڑنی چاہیے تاکہ ان کے بچے بغیر کسی خوف اور ڈر کے اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔