World
برنی ایکلسٹن پرتگال ہوائی اڈے پر شاٹ گن کے ساتھ گرفتار، تفصیلات سامنے آ گئیں
فارمولا ون کے سابق سربراہ برنی ایکلسٹن کو پرتگال کے ہوائی اڈے پر اس وقت سکیورٹی حکام نے روک لیا جب وہ اپنے ساتھ ایک شاٹ گن لے کر سفر کر رہے تھے۔ برنی ایکلسٹن کے مطابق وہ یہ بندوق کلی پিজিয়ন شوٹنگ کے ایک مقابلے میں استعمال کرنا چاہتے تھے۔
فارمولا ون کے سابق سربراہ برنی ایکلسٹن کو پرتگال کے ایک ہوائی اڈے پر اس وقت پولیس اور سکیورٹی حکام نے روک لیا جب وہ اپنے ہمراہ ایک شاٹ گن لے کر سفر کر رہے تھے۔ میڈیا رپورٹس اور برنی ایکلسٹن کے اپنے بیانات کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ پرتگال پہنچے اور ایئرپورٹ پر معمول کی سکیورٹی اور کسٹم چیکنگ کے عمل سے گزر رہے تھے۔ حکام نے ان کے سامان سے شاٹ گن برآمد ہونے پر فوری طور پر ان سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔
برنی ایکلسٹن نے حکام کو صفائی دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اس بندوق کو کسی بھی غیر قانونی مقصد کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کا مقصد اس ہتھیار کو ایک مخصوص کھیلوں کے مقابلے میں استعمال کرنا تھا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ پرتگال میں منعقد ہونے والے کلی پিজিয়ন شوٹنگ کے ایک مسابقتی ایونٹ میں حصہ لینے جا رہے تھے، اور اسی سلسلے میں وہ ضابطے کے تحت اس بندوق کو اپنے ساتھ لے کر سفر کر رہے تھے، تاہم وہ اس حوالے سے مقامی اجازت ناموں اور قوانین کے بارے میں مکمل وضاحت چاہتے تھے۔
واقعے کے بعد ایئرپورٹ پر کچھ دیر کے لیے ہلچل مچ گئی کیونکہ معاملہ فارمولا ون کے ایک انتہائی معروف اور با اثر سابق سربراہ سے جڑا ہوا تھا۔ سکیورٹی حکام نے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے اور برنی ایکلسٹن سے تفصیلی پوچھ گچھ کرنے کے بعد معاملے کی نوعیت کو سمجھا۔ حکام نے اس بات کی جانچ کی کہ آیا ہتھیار لانے کے لیے تمام ضروری دستاویزات اور اجازت نامے حاصل کیے گئے تھے یا نہیں۔
اس واقعے نے ایک بار پھر بین الاقوامی سفر کے دوران کھیلوں کے ہتھیاروں کی نقل و حمل اور ان سے جڑے سخت قوانین کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ برنی ایکلسٹن دنیا بھر میں فارمولا ون کی دنیا کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں اور ان کی اس نوعیت کی کسی خبر نے میڈیا میں بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔ بعد ازاں، تمام ضروری کارروائی مکمل ہونے پر صورتحال واضح ہو گئی اور معاملے کو دوستانہ اور قانونی طریقے سے حل کر لیا گیا۔