LIVE
Loading Breaking News...

غزہ ملبہ ہٹانا جنگی جرائم کے شواہد کا خطرہ اقوام متحدہ

News Image
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں ملبے کو ہٹانے سے جنگی جرائم کے اہم شواہد ضائع ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ بین الاقوامی عدالت انصاف نے 2024 میں اسرائیل کو جنگی جرائم کے شواہد محفوظ رکھنے کا حکم دیا تھا۔
اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں اور انسانی حقوق کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے جنگ کے نتیجے میں جمع ہونے والے ملبے کو ہٹانے اور صاف کرنے کے عمل سے وہاں موجود جنگی جرائم کے شواہد کو مٹانے کا بڑا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے متعلقہ حکام کا ماننا ہے کہ اس ملبے کے نیچے کئی ایسے شواہد دفن ہیں جو مستقبل میں ہونے والی بین الاقوامی تحقیقات اور عدلیہ کے سامنے کارروائی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ملبے کی فوری صفائی یا اس کو ہٹانے کے دوران قیمتی فرانزک اور مادی ثبوت ضائع ہو سکتے ہیں جن کی جنگ کے بعد احتساب کے لیے اشد ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ اس صورتحال کے تناظر میں بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے پہلے ہی 2024 کے دوران اپنے ایک احکامات میں واضح طور پر کہا تھا کہ اسرائیل کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ تنازع سے متعلقہ کسی بھی ایسے شواہد یا مواد کو تباہ نہ کیا جائے جو جنگی جرائم کی تحقیقات میں مددگار ثابت ہو سکیں۔ عدالت کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ غزہ میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے ذمہ داروں کا کاتحقیقی اور قانونی احتساب ممکن بنایا جا سکے اور کوئی بھی فریق ثبوتوں کو چھپانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین نے بھی اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ غزہ کے بنیادی ڈھانچے کی بحالی یا ملبہ اٹھانے کے نام پر جو اقدامات کیے جا رہے ہیں، ان کے تکنیکی طریقہ کار پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر شواہد کو محفوظ بنائے بغیر بھاری مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹایا گیا تو یہ اقدام نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا بلکہ اس سے متاثرہ خاندانوں کے لیے بھی انصاف کے حصول کی راہ میں بڑی رکاوٹیں کھڑی ہو جائیں گی۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کے ادارے اب اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ شواہد کی حفاظت کو ترجیح دی جائے۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر اقوام متحدہ نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے احکامات کی پاسداری کریں اور غزہ میں کسی بھی قسم کے ملبے کو ہٹانے یا تعمیر نو کے عمل سے قبل شفاف تحقیقاتی اداروں کو شواہد اکٹھے کرنے کا پورا موقع فراہم کریں۔ شواہد کا ضائع ہونا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگا بلکہ اس سے غزہ کے مظلوم عوام کی انصاف کی امیدوں کو بھی شدید دھچکا لگے گا، جس پر عالمی سطح پر ایک بار پھر سفارتی اور قانونی بحث شروع ہو چکی ہے۔