LIVE
Loading Breaking News...

کیوبا کا امریکہ سے مذاکرات کرنے سے دوٹوک انکار

News Image
کیوبا کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ظالمانہ ناکہ بندی کے باوجود واشنگٹن کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ ملک کو حال ہی میں امریکی پابندیوں کی وجہ سے ریکارڈ نقصانات اور بدترین بجلی کے تعطل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
کیوبا کی حکومت نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جاری کردہ ظالمانہ اور نام نہاد 'نسلی کشی' ناکہ بندی کے باوجود واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کا کوئی امکان نہیں ہے۔ کیوبن حکام کا یہ سخت موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو حالیہ مہینوں میں تاریخ کے بدترین اور انتہائی مشکل بجلی کے تعطل اور توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کیوبا کے وزیر خارجہ نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ امریکی اقتصادی پابندیوں اور تجارتی ناکہ بندی کی وجہ سے کیوبا کی معیشت کو ریکارڈ توڑ نقصانات اٹھانے پڑے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ سخت پابندیاں براہ راست عام کیوبن شہریوں کی زندگی کو متاثر کر رہی ہیں اور اس کی وجہ سے ملک کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران کیوبا بھر میں طویل بجلی کے تعطل نے روزمرہ کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، جس کی بنیادی وجہ ایندھن اور اس کی درآمد کے لیے درکار زرمبادلہ کی شدید کمی ہے۔ کیوبا کا مؤقف ہے کہ یہ تمام تر مشکلات براہ راست امریکی پابندیوں کا نتیجہ ہیں جو جزیرے کے عوام کے خلاف ایک معاشی جنگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ عالمی سطح پر بھی کیوبا کی معاشی صورتحال اور امریکی پابندیوں کے اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ تاہم کیوبن قیادت نے دوٹوک الفاظ میں واضح کر دیا ہے کہ جب تک واشنگٹن اپنی ظالمانہ پالیسیوں اور ناکہ بندی کو ختم نہیں کرتا، کسی بھی قسم کی بات چیت یا مذاکرات کا آغاز ممکن نہیں ہو سکے گا۔