World
شام کا اسد دور کا جوہری ری ایکٹر ہتھیاروں کے لیے ترتیب شدہ قرار
اقوام متحدہ کے جوہری نگراں ادارے نے انکشاف کیا ہے کہ شام کا وہ خفیہ ری ایکٹر جسے 2007 میں بمباری سے تباہ کر دیا گیا تھا، جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ اس تنصیب سے متعلق مواد اب انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے تحفظ میں موجود ہے۔
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) نے ایک انتہائی اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ شام کے اسد دور کا ایک خفیہ جوہری ری ایکٹر مبینہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ یہ وہی تنصیب ہے جسے سال 2007 میں ایک فضائی حملے کے دوران تباہ کر دیا گیا تھا، اور اب اس حوالے سے نئے حقائق سامنے آئے ہیں۔
آئی اے ای اے کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، تباہ شدہ تنصیب سے برآمد ہونے والا حساس مواد اور متعلقہ باقیات اب باقاعدہ طور پر عالمی ادارے کے حفاظتی اور نگرانی کے ضوابط کے تحت آ چکی ہیں۔ اس پیش رفت سے شام کے ماضی کے خفیہ جوہری پروگرام پر مزید روشنی پڑتی ہے جس پر طویل عرصے سے عالمی سطح پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا تھا، اور مغربی ممالک اس حوالے سے شواہد طلب کرتے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ خطے میں جوہری پھیلاؤ کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اگرچہ اس تنصیب کو دو دہائی قبل کارروائی میں نشانہ بنایا جا چکا ہے، تاہم اس کا مواد ابھی تک عالمی سلامتی کے اداروں کے لیے باعثِ تشویش رہا ہے۔ آئی اے ای اے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ اس مواد کا کسی بھی قسم کا غلط استعمال نہ ہو اور تمام معاملات ضابطے کے تحت چلائے جائیں۔