LIVE
Loading Breaking News...

سعودی تیل لے جانے والے ٹینکرز کا ریڈ سی میں بحری نظام بند

News Image
بھارت کے لیے سعودی عرب کا خام تیل لے جانے والے دو بڑے آئل ٹینکرز نے بحیرہ احمر سے گزرتے ہوئے اپنے ٹریکنگ سسٹمز بند کر دیے ہیں۔ اس قدم کا مقصد ممکنہ خطرات سے بچنا اور اپنی نقل و حرکت کو خفیہ رکھنا بتایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی منڈی میں تیل کی سپلائی اور بحری سلامتی کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں بھارت کے لیے سعودی عرب کا خام تیل لے جانے والے دو بڑے آئل ٹینکرز نے بحیرہ احمر (ریڈ سی) سے گزرتے ہوئے اپنے ٹریکنگ سسٹمز غیر فعال کر دیے ہیں۔ بحری امور کے ماہرین کے مطابق ٹینکرز کا اس طرح 'گھپ اندھیرے' میں جانا (یعنی اپنی لوکیشن چھپانا) خطے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات اور تجارتی خطرات کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اقدام سے تجارتی جہاز رانی کے شعبے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ بحیرہ احمر کا یہ خطہ پچھلے کچھ عرصے سے مختلف بحری سلامتی کے مسائل کا شکار رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں بحیرہ احمر اور گردونواح کے علاقوں میں تجارتی جہازوں کو درپیش سکیورٹی چیلنجز کی وجہ سے بڑی شپنگ کمپنیوں نے متبادل راستے اختیار کرنے یا اپنی پوزیشن خفیہ رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ سعودی عرب سے بھارت جانے والی اس کھیپ کے حوالے سے بھی یہی حکمت عملی اپنائی گئی تاکہ ٹینکرز کو کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے اور تیل کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور توانائی کی سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے نئی منصوبہ بندی کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔ دوسری جانب تجارتی اور کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات سے تیل کی ترسیل کے اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کے بالواسطہ اثرات عالمی منڈی اور درآمد کنندگان پر پڑیں گے۔ بھارت جیسی ابھرتی ہوئی معیشت کے لیے توانائی کی درآمدات ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس طرح کے بحری چیلنجز توانائی کی سکیورٹی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ متعلقہ حکام اور شپنگ کمپنیاں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکے اور خطے میں تجارتی سرگرمیوں کو بحفاظت جاری رکھا جا سکے۔