LIVE
Loading Breaking News...

ایران میں مسلح گروہوں کے سیکیورٹی خطرات اور اندرونی چیلنجز

News Image
ماہرین اور سرکاری حکام نے خبردار کیا ہے کہ نسلی مسلح گروہوں کو ملنے والی بیرونی حمایت ایران کے لیے ایک سنگین اور بڑھتا ہوا سیکیورٹی خطرہ بن چکی ہے۔ اس صورتحال سے ملک کے اندرونی استحکام کو شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
تہران: ماہرین اور ریاستی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران کو اس وقت اندرونی محاذ پر شدید سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے، جن میں نسلی مسلح گروہوں کی سرگرمیاں سرفہرست ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں متحرک ان مسلح گروہوں کو مبینہ طور پر بیرونی سطح پر مدد اور حمایت فراہم کی جا رہی ہے، جس سے ایرانی سلامتی کے اداروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہو رہے ہیں۔ سیکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں تناؤ اور اندرونی سطح پر پائی جانے والی نسلی کشیدگی کو بعض بیرونی طاقتیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس صورتحال نے ملک کی اندرونی سلامتی اور استحکام پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے ریاستی مشینری مسلسل مصروف عمل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک دشمن عناصر کے خلاف سخت اقدامات کر رہے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی اور بیرونی مداخلت کے تسلسل کی وجہ سے ایران کے لیے داخلی سیکیورٹی کے یہ چیلنجز آنے والے دنوں میں مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے جامع اور مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔