LIVE
Loading Breaking News...

سینیٹ کمیٹی: تیزاب حملوں کے مجرموں کیلئے سزائے موت کا بل منظور

News Image
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے تیزاب حملوں کے مجرموں کے لیے سزائے موت کی تجویز سمیت اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے علاوہ گھریلو ملازمین کے استحصال، ایل پی جی کی غیر قانونی ری فلنگ اور لاشیں روکنے کے خلاف بھی سخت سزاؤں کے بل پاس کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا ایک اہم اجلاس سینٹر فیصل سلیم الرحمان کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں فوجداری قوانین میں اہم ترامیم اور متعدد پرائیویٹ ممبرز بلز کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران کمیٹی نے معاشرے کے کمزور طبقات کے تحفظ، پبلک سیفٹی اور سنگین جرائم کے خلاف سزاؤں کو مزید سخت بنانے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے۔ وزارت داخلہ کے اعتراضات کے باوجود پیپلز پارٹی کے ارکان کی حمایت سے ان بلوں کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا، جن کا مقصد ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم کی روک تھام اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانا ہے۔ اجلاس کا سب سے اہم نکتہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 336 بی میں ترمیم کا بل تھا، جسے سینیٹر محمد عبدالقادر نے پیش کیا تھا۔ اس بل میں کوئٹہ میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب حملے کے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2011 کی قانون سازی کے باوجود تیزاب گردی کے واقعات تھم نہیں رہے، جو متاثرہ افراد کی زندگی بھر کی بدصورت اور شدید ذہنی کرب کا باعث بنتے ہیں۔ اس جرم کے سدباب کے لیے اب سزائے موت، عمر قید یا کم از کم 14 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سخت تجویز دی گئی ہے تاکہ مجرموں کے لیے ایک کड़ा پیغام ہو۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے گھریلو ملازمین پر ہونے والے تشدد اور استحصال کے خلاف سینیٹر سرمد علی کا پیش کردہ بل بھی متفقہ طور پر پاس کر دیا۔ اس قانون کے تحت گھریلو ملازمین پر جسمانی تشدد، جنسی ہراسانی، جبری مشقت، اجرت کی چوری اور طبی سہولیات سے محروم رکھنے والے آجرین کے خلاف سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں جن میں دس سال تک قید اور جرمانہ شامل ہے۔ شدید نوعیت کے نقصان یا موت کی صورت میں عمر قید اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔ ساتھ ہی رہائشی علاقوں میں ایل پی جی کی غیر قانونی ری فلنگ اور ہسپتالوں میں علاج کے بعد فیس کی ادائیگی نہ ہونے پر لاشیں روکنے کے غیر انسانی عمل کو بھی قابلِ تعزیر جرم قرار دے دیا گیا ہے۔