Sports
پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی تشکیلِ نو، بولنگ کوچ ایشلے نوفکے کا بیان
پاکستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچی ایشلے نوفکے نے کہا ہے کہ ٹیم ٹیسٹ اسکواڈ کی تشکیلِ نو کے انتہائی ابتدائی مرحلے سے گزر رہی ہے۔ انہوں نے ایجبسٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹیم میں حال ہی میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں اور نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینے کے حوالے سے خیالات کا اظہار کیا۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے بولنگ کوچ ایشلے نوفکے نے پیر کے روز کہا ہے کہ پاکستان اس وقت اپنی ٹیسٹ ٹیم کی تشکیلِ نو کے انتہائی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ٹیم ایک ایسے ہنگامہ خیز ہفتے کے بعد آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے جس میں اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں اور کوچنگ عملے میں ردوبدل شامل ہے۔ ایجبسٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نوفکے نے کہا کہ ہر قوم کے کرکٹ لائف سائیکل میں ایسے لمحات آتے ہیں جب وہ طویل عرصے تک شاندار کرکٹ کھیلتے ہیں، لیکن پھر پرانے کھلاڑی رخصت ہوتے ہیں اور نئے چہرے سامنے آتے ہیں۔ ہم اس عمل کے بالکل آغاز میں ہیں۔ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں پاکستان کا مقابلہ ہے جو ہیڈنگلے اور لارڈز میں شاندار فتوحات کے بعد تین صفر سے کلین سوئپ مکمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے جہاں ایک طرف مائیک ہیسن کو عبوری ہیڈ کوچ مقرر کیا ہے اور اسکواڈ میں تبدیلیاں کی ہیں، وہیں دوسری طرف میزبان ٹیم کو جوفرا آرچر کی قیادت میں ایک مستحکم پیس اٹیک دستیاب ہے۔ پاکستانی خیمے میں ہونے والی ان تبدیلیوں کی وجہ سے نوجوان فاسٹ بولرز رضا اللہ اور محمد عمران جونیئر کے لیے دروازے کھل گئے ہیں۔ نوفکے کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے حالات میں ان کی موجودگی محض دو شکستوں کا ہنگامی ردعمل نہیں بلکہ طویل مدتی لائحہ عمل کا حصہ ہے۔ یہ نوجوان کھلاڑی ہیں اور انگلینڈ کے حالات کا تجربہ نہیں رکھتے، وہ یہاں سیکھنے اور آگے بڑھنے آئے ہیں۔ ہم مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دور اندیشانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ دونوں نوجوان بولرز پاکستان کو وہ رفتار فراہم کرتے ہیں جو اس سیریز میں اب تک کے اٹیک میں کم نظر آئی تھی۔ نوفکے کے مطابق وہ پچھلے بولرز کے مقابلے میں 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے زیادہ قریب ہیں۔ بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر محمد عمران جونیئر اور دائیں ہاتھ کے رضا اللہ تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس کو بھی خاطر خواہ تعاون فراہم کر سکتے ہیں۔ خود ایشلے نوفکے کو بھی قلیل نوٹس پر ٹیسٹ سیٹ اپ میں شامل کیا گیا تھا، انہوں نے بتایا کہ انہیں رات تین بجے پیغام ملا کہ انتظامیہ انہیں انگلینڈ بھیج رہی ہے۔ اسکواڈ میں ہونے والی وسیع تر تبدیلیوں پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سلیکشن پینل اور کوچنگ اسٹاف ٹیم کے اندرونی فیصلوں کو لے کر پیش رفت جاری رکھے ہوئے ہے۔ ٹیم کے اردگرد موجود غیر یقینی صورتحال کے باوجود، کوچنگ عملے کی پوری کوشش ہے کہ کھلاڑی منفی چیزوں سے ہٹ کر صرف کرکٹ پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور میدان میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔