Sports
فاطمہ ثنا پر جرمانہ: ویمنز ایشیا کپ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی
پاکستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا کو بھارت کے خلاف میچ کے دوران نامناسب رویہ اپنانے پر میچ فیس کے دس فیصد جرمانے کا سامنا کرنا پڑا۔ آئی سی سی کی جانب سے ان کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی ان کے ریکارڈ میں شامل کر دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے خواتین کے ایشیا کپ میں روایتی حریف بھارت کے خلاف میچ کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان ویمنز ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا پر میچ فیس کا دس فیصد جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ہفتے کے روز کھیلے گئے اس میچ کے دوران پیش آیا جب فاطمہ ثنا نے بھارتی اوپننگ بلے باز شفیلی ورما کو آؤٹ کرنے کے بعد پویلین کی طرف اشارہ کیا جسے آئی سی سی کے قوانین کے منافی قرار دیا گیا۔
آئی سی سی کے جاری کردہ میڈیا ریلیز کے مطابق پاکستانی کپتان کا یہ عمل ضابطہ اخلاق کے لیول ون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ آرٹیکل 2.5 سے متعلق ہے۔ اس آرٹیکل کے تحت ایسے الفاظ، حرکات یا اشاروں کا استعمال ممنوع ہے جو کسی بلے باز کے آؤٹ ہونے پر اس کی توہین کریں یا اس کے ردعمل میں جارحیت کو ہوا دے سکیں۔ میچ ریفری سپریا رانی داس کی جانب سے تجویز کردہ سزا کو فاطمہ ثنا نے تسلیم کر لیا جس کے بعد کسی باضابطہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ فیلڈ امپائرز کے ساتھ ساتھ تھورڈ اور فورتھ امپائر نے بھی اس چارج کی توثیق کی تھی۔
اس میچ کے دوران میدان پر کارکردگی کے لحاظ سے بھی پاکستانی ٹیم کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ پاکستان کی پوری ٹیم محض 55 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی جو کہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ان کا اب تک کا سب سے کم ترین مجموعی اسکور ہے۔ بھارتی اسپنرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی بلے بازی کو شدید دباؤ میں رکھا۔ جواب میں بھارتی ٹیم نے مطلوبہ ہدف آسانی سے حاصل کر لیا، اگرچہ پاکستانی کپتان فاطمہ ثنا نے ابتدائی اوورز میں تین وکٹیں حاصل کر کے بھارتی ٹاپ آرڈر کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی تھی۔
جرمانے کے ساتھ ساتھ فاطمہ ثنا کے تادیبی ریکارڈ میں ایک نیا ڈی میرٹ پوائنٹ بھی جوڑ دیا گیا ہے جس سے گزشتہ چوبیس مہینوں کے دوران ان کے کل ڈی میرٹ پوائنٹس کی تعداد دو ہو چکی ہے۔ اس سے قبل اگست 2025 میں ڈبلن میں آئرلینڈ کے خلاف میچ میں بھی ان پر ایک جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ لیول ون کی خلاف ورزیوں پر زیادہ سے زیادہ پچاس فیصد میچ فیس اور ایک یا دو ڈی میرٹ پوائنٹس کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اگر مقررہ مدت کے اندر کسی کھلاڑی کے چار یا اس سے زیادہ ڈی میرٹ پوائنٹس ہو جائیں تو وہ معطلی کے پوائنٹس میں تبدیل ہو جاتے ہیں جس سے کھلاڑی پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی ٹیم ایشیا کپ کے اپنے اگلے میچ میں ہانگ کانگ کے خلاف میدان میں اترے گی جہاں وہ سیمی فائنل کے لیے اپنی جگہ یقینی بنانے کی کوشش کرے گی۔