LIVE
Loading Breaking News...

محسن نقوی کا بیان: نظام حکومت تباہ اور نوجوانوں کی تحریک کا خطرہ

News Image
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ملک کا نظامِ حکومت مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حالات نہ بدلے تو نوجوان طبقہ ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک بار پھر ملکی سیاسی اور انتظامی صورتحال پر گہرے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کا موجودہ نظامِ حکومت اب مزید اس نہج پر نہیں چل سکتا اور یہ عملًا بیٹھ چکا ہے۔ ان کے اس بیان نے ملکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے اور اس پر مختلف آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ حکومتی حلقوں کی جانب سے ایسے اعترافات ملک کی سنگین ہوتی ہوئی انتظامی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ محسن نقوی نے خبردار کیا ہے کہ اگر معاملات کو درست سمت میں نہ لایا گیا اور عوام کی مشکلات کا بروقت ازالہ نہ کیا گیا، تو ملک کا نوجوان طبقہ سڑکوں پر نکل سکتا ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر یہ نوجوان متحد ہو گئے اور انہوں نے کسی بڑی تحریک کا آغاز کیا تو موجودہ نظام اس کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ ان کا یہ اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ عوامی بے چینی اب خطرے کے نشان سے اوپر جا رہی ہے اور حکمرانوں کو اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ملک کے طول و عرض میں مہنگائی، بیروزگاری اور بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے پہلے ہی عوام بالخصوص نوجوانوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ کے ان الفاظ نے کہ اگر "کاکروچ متحد ہو گئے" تو نظام پلٹ سکتا ہے، اس تلخ حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ عام آدمی اس نظام سے بیزار ہو چکا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ حکومت کے اپنے وزراء کی طرف سے اس قسم کے بیانات دراصل اندرونی بحران کی غمازی کرتے ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی قوتیں ذاتی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر سنجیدہ اصلاحات کی طرف آئیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار عوامی ردعمل کو روکا جا سکے۔ اگر بروقت پالیسی میں تبدیلیاں نہ لائی گئیں تو یہ تنبیہ حقیقت کا روپ دھار سکتی ہے، جس سے ملک میں ایک نیا سیاسی اور سماجی بھونچال آ سکتا ہے۔