LIVE
Loading Breaking News...

حماد اظہر نو مئی مقدمہ اکیس روزہ جسمانی ریمانڈ لاہور پولیس

News Image
لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جناح ہاؤس حملہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کو اکیس روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ دوسری جانب حماد اظہر کی والدہ نے بیٹے کی بازیابی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں حبس بیجا کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔
لاہور کی ایک انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما حماد اظہر کو نو مئی کے پرتشدد واقعات کے دوران جناح ہاؤس پر حملے اور توڑ پھوڑ کے مقدمے میں اکیس روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ پیر کے روز سخت سیکیورٹی حصار میں سارور روڈ پولیس نے ملزم کو عدالت میں پیش کیا جہاں مقدمے کی سماعت اے ٹی سی جج سردار محمد اکرم نے کی۔ اس موقع پر پولیس تفتیشی افسر کی جانب سے عدالت سے ملزم کے ساٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملزم طویل عرصے سے اس مقدمے میں مطلوب تھا اور اب اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ حماد اظہر سے تفتیش کے لیے فوٹو گرامک ٹیسٹ اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی فارنزک جانچ پڑتال بھی درکار ہے کیونکہ حملہ ایک سوچی سمجی سازش کے تحت کیا گیا تھا۔ عدالت میں ملزم کی نمائندگی کرتے ہوئے بیرسٹر ابوذر سلمان نیازی نے پولیس کی استدعا کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پولیس یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ ان کا موکل تین سال سے روپوش تھا، لیکن اس دوران تفتیشی افسر نے کوئی ٹھوس شبیہ یا ثبوت اکٹھا نہیں کیا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ حماد اظہر کی کوئی شناخت پریڈ نہیں کرائی گئی اور انہیں چہرہ چھپا کر عدالت میں پیش کیا گیا، جو کہ قانون کے منافی ہے۔ دفاعی وکیل نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ان کے موکل کو ایک شریک ملزم کے بیان کی بنیاد پر اس مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے، جبکہ اس سے پہلے اسی نوعیت کے ایک اور معاملے میں ڈاکٹر یاسمین رشید کو بھی نامزد کیا گیا تھا لیکن ان کا کیس پہلی ہی سماعت پر خارج کر دیا گیا تھا۔ وکیل نے استدعا کی کہ انہی بنیادوں پر ان کے موکل کو بھی اس مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے۔ دونوں اطراف کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے حماد اظہر کو اکیس دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ سماعت کے دوران جج نے پولیس کو ہدایت کی کہ ملزم کے ساتھ مناسب رویہ رکھا جائے اور اس کے حقوق کا خیال رکھا جائے تاکہ بعد میں عدالت یا عوام کے سامنے شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام کارروائی کو شفاف بنایا جائے۔ اس سے قبل اتوار کے روز حماد اظہر کی گرفتاری کی اطلاعات کے بعد ان کی والدہ نے لاہور ہائی کورٹ میں حبس بیجا کی ایک درخواست بھی دائر کی تھی جس میں پنجاب کے اعلیٰ پولیس حکام کو فریق بنایا گیا تھا اور موقف اختیار کیا گیا تھا کہ خاندان کو ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت نے حماد اظہر کی گرفتاری کو سیاسی انتقام اور بدترین جبر کی علامت قرار دیتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔