World
سعودی عرب کا ایجنسی کو جوہری معائنے کے اضافی اختیارات دینے کا امکان
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب امریکی معاہدے کے تحت جوہری سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے لیے ایجنسی کو اضافی اختیارات دینے کی تیاری کر رہا ہے۔ اگرچہ اس میں باضابطہ ایڈیشنل پروٹوکول شامل نہیں، تاہم حساس سرگرمیوں کے حوالے سے ایسے انتظامات کیے جا رہے ہیں جو اس کے کافی حد تک قریب ہیں۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے مجوزہ سویلین جوہری تعاون کے معاہدے میں اگرچہ باضابطہ طور پر 'ایڈیشنل پروٹوکول' شامل نہیں ہے، تاہم ریاض حکومت اس کے انتہائی قریب تر انتظامات کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ جولائی میں امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان سویلین جوہری تعاون پر اتفاق ہوا تھا جس کے تحت ریاض کو امریکی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے یورینیم افزودگی اور جوہری ری ایکٹرز کی تعمیر کی اجازت ملنی ہے۔ عدم پھیلاؤ سے وابستہ مختلف تنظیموں نے اس مجوزہ '123 معاہدے' پر تنقید کی تھی کیونکہ اس میں ایڈیشنل پروٹوکول شامل نہیں تھا جو اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کو غیر اعلانیہ مقامات پر اچانک معائنے سمیت کئی وسیع اختیارات فراہم کرتا ہے۔ تاہم پیر کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے واضح کیا کہ اگرچہ ایڈیشنل پروٹوکول ایک مثالی نظام ہوتا، لیکن سعودی عرب اپنے بنیادی ضوابط سے آگے بڑھنے کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشاورتی اور تیاری کے عمل کے دوران دو طرفہ معاہدے میں متعدد ایسے شقوں کو شامل کرنا ممکن ہو گیا ہے جو ایجنسی کو اضافی تصدیقی اور نگرانی کے اختیارات فراہم کریں گے۔ رافیل گروسی کے مطابق یہ اضافی اختیارات یورینیم کی افزودگی، اس سے پہلے کے مرحلے یعنی یورینیم کی تبدیلی اور ری پروسیسنگ جیسی حساس سرگرمیوں سے متعلق ہوں گے جو ری ایکٹر کے استعمال شدہ ایندھن سے پلوٹونیم کو الگ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ یہ تمام انتہائی حساس سرگرمیاں ہیں، اس لیے ان کے لیے ایسے اجازت نامے اور صلاحیتیں موجود ہوں گی جو ایڈیشنل پروٹوکول کے اندر پائی جانے والی شرائط سے بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہیں۔ اس معاہدے اور تفصیلات کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد، آئی اے ای اے اور سعودی عرب کے درمیان اس دوطرفہ معاہدے کو ایجنسی کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔