World
لاطینی امریکہ میں امریکی اثر و رسوخ، اعلیٰ سفارت کار کا دورہ
امریکی اعلیٰ سفارت کار خطے میں دائیں بازو کی حالیہ سیاسی کامیابیوں کے بعد ایک اہم دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔ اس دورے کا مقصد لاطینی امریکہ میں واشنگٹن کے اثر و رسوخ کو بڑھانا اور منشیات کے کارٹیلز کے خلاف سخت موقف اپنانا ہے۔
لاطینی امریکہ میں سیاسی منظر نامے میں ہونے والی نمایاں تبدیلیوں اور دائیں بازو کی جماعتوں کی حالیہ شاندار کامیابیوں کے بعد، واشنگٹن نے خطے میں اپنا اثر و رسوخ مزید بڑھانے کا تہیہ کر لیا ہے۔ اسی سلسلے میں اہم امریکی حکام نے ایکواڈور، کولمبیا اور پیرو کا دورہ شروع کر دیا ہے تاکہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا سکے اور سلامتی کے امور پر تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کے کئی ممالک میں روایتی بائیں بازو کی سیاست کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور نئی حکومتیں برسرِ اقتدار آئی ہیں جو واشنگٹن کے ساتھ قریبی تعاون کی خواہاں ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا مقصد ان نئے سیاسی رجحانات کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے لاطینی امریکہ میں اپنی دیرینہ پوزیشن کو بحال کرنا ہے۔ اس دورے کے دوران سکیورٹی اور دفاعی تعاون سرفہرست رہیں گے۔ واشنگٹن پہلے ہی منشیات کے کارٹیلز اور بین الاقوامی مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف زیادہ جارحانہ اور عسکری نوعیت کا موقف اپنانے کا عزم ظاہر کر چکا ہے۔ لاطینی امریکہ کے کئی ممالک منشیات کی سمگلنگ اور پرتشدد جرائم کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں، اور نئی دائیں بازو کی قیادت نے ان مسائل سے سختی سے نمٹنے کا وعدہ کیا ہے۔ امریکی عہدیدار اپنے اس دورے میں ان ممالک کے ساتھ مل کر ان کارٹیلز کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے پر تبادلہ خیال کریں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ دورہ آنے والے وقتوں میں واشنگٹن اور لاطینی امریکہ کے تعلقات کی سمت متعین کرنے میں انتہائی اہم ثابت ہوگا۔ خطے میں بڑھتی ہوئی بیرونی طاقتوں کی معاشی اور سٹریٹیجک مداخلت کے پیش نظر، امریکہ کے لیے یہ ضروری ہو گیا تھا کہ وہ اپنے روایتی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ ایکواڈور، کولمبیا اور پیرو اس حکمت عملی میں کلیدی حلیف کی حیثیت رکھتے ہیں، اور اس دورے کے مثبت نتائج دونوں فریقوں کے درمیان تعاون کو ایک نئی سطح پر لے جا سکتے ہیں۔