LIVE
Loading Breaking News...

محسن نقوی کا پشاور اور کوئٹہ کے تاجروں کے مسائل حل کرنے کا اعلان

News Image
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے تاجروں کو یقین دلایا ہے کہ ان کے تمام سکیورٹی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس سلسلے میں جلد پشاور اور کوئٹہ کے دورے کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے تاجروں کے ساتھ ایک اہم ملاقات میں ان کے تحفظ اور کاروباری مسائل کے حل کے لیے بھرپور اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ملاقات کے دوران تاجر برادری نے امن و امان کی مجموعی صورتحال اور سکیورٹی کے حوالے سے اپنے تحفظات سے وزیر داخلہ کو تفصیل سے آگاہ کیا۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ پشاور اور کوئٹہ سمیت دونوں صوبوں میں کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے مؤثر اور پائیدار سکیورٹی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ محسن نقوی نے تاجروں کے تمام مطالبات اور تجاویز کو غور سے سننے کے بعد یقین دلایا کہ حکومت تاجر برادری کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ خود ذاتی طور پر پشاور اور کوئٹہ کا دورہ کریں گے تاکہ وہاں کی کاروباری برادری کے مسائل کو زمین پر جا کر حل کیا جا سکے اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معیشت کی ترقی کے لیے تاجروں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ دوسری جانب بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بھی دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اپناتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ صوبے سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے ان شدت پسندوں کو مذاکرات اور بحالی کی پیشکش بھی کی ہے جو ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں واپس آنا چاہتے ہیں۔ سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ریاست ان تمام عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹے گی جو امن کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں جبکہ پرامن شہریوں اور تاجروں کے تحفظ کے لیے حکومت کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ ادھر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے حکام کا کہنا ہے کہ پولیس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن فورس کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے تاکہ پشاور، کوئٹہ اور دیگر حساس علاقوں میں امن و امان کی فضا کو بحال کیا جا سکے اور کاروباری طبقہ بغیر کسی خوف کے اپنی معاشی سرگرمیاں جاری رکھ سکے۔