Sports
پی سی بی کی امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف اندرونی انکوائری
پاکستان کرکٹ بورڈ نے میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے بعد نظم و ضبط سے متعلق معاملات پر اندرونی انکوائری کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ پی سی بی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور قیاس آرائیوں کو حقیقت نہ سمجھا جائے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اتوار کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بورڈ نے نظم و ضبط اور رویے سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد ایک اندرونی انکوائری کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب میڈیا پر یہ دعوے کیے جا رہے تھے کہ قومی ٹیم کے سابق ٹیسٹ کھلاڑیوں امام الحق اور محمد رضوان کے حوالے سے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔ پی سی بی کے میڈیا ڈائریکٹر عامر میر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ اندرونی طور پر نظم و ضبط سے جڑے معاملات کا جائزہ لے رہا ہے اور یہ تمام کارروائی بورڈ کے طے شدہ ضوابط کے مطابق آگے بڑھائی جا رہی ہے۔ بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ پی سی بی اس طرح کے تمام امور کو اپنے معیاری طریقہ کار کے تحت دیکھتا ہے تاکہ متعلقہ افراد کو اصولوں کے مطابق مناسب موقع فراہم کیا جا سکے۔ یہ پیش رفت جیو نیوز اور دیگر ذرائع ابلاغ کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آئی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ دورہ انگلینڈ کے دوران کھلاڑیوں کی سرگرمیوں کی جانچ کے سلسلے میں ان کے موبائل فونز سے ڈیٹا حاصل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد سیکیورٹی افسر نے مبینہ طور پر فونز تحویل میں لیے اور چند گھنٹوں بعد واپس کیے۔ تاہم پی سی بی نے ان خبروں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی اور میڈیا ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات اور قیاس آرائیوں کو مستند حقیقت نہ سمجھا جائے۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ جاری کارروائی کے دوران مزید کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا اور شائقین کو چاہیے کہ وہ صرف آفیشل اعلانات پر بھروسہ کریں۔ یہ پورا معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف سیریز میں مسلسل دو بھاری شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کے بعد پی سی بی نے ایجبسٹن میں ہونے والے آخری ٹیسٹ سے قبل ٹیم اور کوچنگ عملے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں بھی کی ہیں۔