LIVE
Loading Breaking News...

نیپال سیلاب سوگ کا دن اور امدادی کارروائیاں

News Image
نیپال میں تباہ کن سیلاب اور گلیشیائی تودے گرنے کے واقعے کے بعد ملک بھر میں سرکاری سطح پر سوگ کا دن منایا گیا جبکہ سرنگوں میں پھنسے افراد کے زندہ بچ جانے کی امیدوں پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اس خوفناک آفت کے نتیجے میں اب تک ایک ہزار تین سو اٹھانوے سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور ہزاروں لاپتہ ہیں۔
نیپال میں چین اور نیپال کی سرحد پر واقع ہونے والے تباہ کن گلیشیائی اور پہاڑی تودے گرنے کے واقعے کے بعد پیر کے روز ملک بھر میں ایک قومی یوم سوگ منایا گیا۔ اس المناک آفت کے نتیجے میں اب تک کم از کم ایک ہزار تین سو اٹھانوے افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ پانچ ہزار پانچ سو سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ سوگ کے اس دن کے موقع پر سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے جبکہ روایتی ہندو رسومات کے تحت دعائیہ تقریبات اور شمع روشن کرنے کے پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔ دوسری جانب، سرنگوں کے اندر پھنسے ہوئے واٹر پاور ورکرز کے لواحقین تاحال اس امید پر زندہ ہیں کہ شاید ریسکیو ٹیمیں ان کے پیاروں کو زندہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔ حالی दिनों میں سرنگوں کی گہرائی سے کچھ افراد کو زندہ نکالے جانے کے بعد اس امید کو مزید تقویت ملی ہے۔ نیپالی فوج کے ترجمان راجا رام بسنت نے میڈیا کو بتایا کہ امدادی کارروائیاں اسی عزم اور رفتار کے ساتھ جاری ہیں جو پہلے دن سے تھی۔ انہوں نے کہا کہ زمینی، فضائی اور سرنگوں کے اندر تین مختلف سطحوں پر سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی شخص اندر پھنسا نہ رہے۔ اس طوفانی سیلاب نے پوری کی پوری بستیوں کو ملیامیٹ کر دیا ہے، سڑکیں اور پل تباہ ہو چکے ہیں اور ہزاروں گھر مسمار ہو گئے ہیں۔ دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمع ہونے والے لاپتہ افراد کے ورثا کا کہنا ہے کہ حکومت کو امدادی کارروائیوں کی رفتار مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ آسٹریلیا کے سرنگ ریسکیو ماہر آرنلڈ ڈکس، جو اس وقت نیپالی ٹیموں کی معاونت کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ یہ ریسکیو آپریشن ان کی زندگی کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف مقامات پر بیک وقت کئی ریسکیو آپریشنز جاری ہیں جن کے اپنے خطرات اور مشکلات ہیں۔ اس مشن میں چین، بھارت اور جنوبی کوریا کے ماہرین بھی نیپالی ریسکیو ورکرز کے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔ مردہ خانوں میں جگہ کم پڑنے کی وجہ سے حکام نے لاوارث لاشوں کے ڈی این اے نمونے لے کر انہیں اجتماعی قبروں میں سپرد خاک کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ مستقبل میں ان کی شناخت ممکن ہو سکے۔ اقوام متحدہ کے حکام نے دنیا بھر سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں نیپال کی بھرپور مالی امداد کریں کیونکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث آنے والی اس آفت نے غریب ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر کی ضرورت ہے۔