World
موسمیاتی فنانسنگ اور پاکستان کو درپیش مالیاتی و انتظامی چیلنجز
پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اربوں ڈالر کی ضرورت ہے، تاہم بین الاقوامی فنڈز حاصل کرنے کے پیچیدہ طریقہ کار اور اداروں کی محدود صلاحیت بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ عالمی سطح پر وعدہ کیے گئے فنانسنگ کے مقابلے میں پاکستان کو ملنے والی رقوم اب بھی بہت کم ہیں۔
سال 2022 کے تباہ کن مون سون سیلاب نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی جس کے نتیجے میں کروڑوں افراد متاثر ہوئے اور تقریباً پندرہ ارب ڈالر کے مالی نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا۔ عالمی سطح پر پاکستان نے ماحولیاتی انصاف کے لیے ایک مؤثر آواز اٹھائی اور نقصان اور ازالے کے فنڈز کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، تین سال گزر جانے کے باوجود پاکستان کے موسمیاتی چیلنجز بدستور برقرار ہیں اور ملک کی مالیاتی ضروریات انتہائی زیادہ ہیں۔ عالمی بینک کے مطابق 2023 سے 2030 کے دوران پاکستان کے ماحولیاتی اور ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تقریباً 348 ارب ڈالر درکار ہیں، جن میں موافقت اور لچک پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اخراج میں کمی کے منصوبے شامل ہیں۔ اس خطیر رقم کے مقابلے میں ملک کو ملنے والی امداد تاحال آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
بین الاقوامی موسمیاتی فنانسنگ عام غیر ملکی امداد کی طرح کام نہیں کرتی ہے جہاں ایک حکومت براہ راست دوسری حکومت کو رقم منتقل کرتی ہے۔ گرین کلائمیٹ فنڈ، گلوبل एनवायरनमेंट فیسیلٹی اور نقصان و ازالے کے فنڈ جیسے بین الاقوامی اداروں سے فنڈز حاصل کرنے کے لیے انتہائی سخت قواعد و ضوابط اور طریقہ کار پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ ہر فنڈ کے لیے ایک منظور شدہ ادارے کا ہونا لازمی ہے جو مالیاتی انتظام کے سخت نظام کی توثیق کر سکے۔ پاکستان میں اداروں کی محدود صلاحیت اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تکنیکی تیاری نہ ہونے کی وجہ سے ان فنڈز کا حصول ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فنڈ ان چند اداروں میں شامل ہے جنہوں نے اس شعبے میں اپنی صلاحیت کو بہتر بنایا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فنڈز کے سست رفتار حصول کی ایک بڑی وجہ قابلِ عمل اور بینک لائق پراجیکٹ تجاویز کی کمی بھی ہے۔ بین الاقوامی فنڈز کے سخت معیار پر پورا اترنے کے لیے خصوصی تکنیکی مہارت کی ضرورت ہوتی ہے، جو بہت سے وفاقی اور صوبائی محکموں کے پاس محدود ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد ماحولیاتی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل ہو چکی ہیں جبکہ وفاقی وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی بین الاقوامی فنڈز کے لیے مرکزی رابطہ کار کا کردار ادا کرتی ہے، جس سے بعض اوقات فیصلہ سازی کے عمل میں تاخیر ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ شفافیت اور ٹرسٹ کا مسئلہ بھی اہم ہے کیونکہ عطیہ دہندگان صرف مضبوط تجاویز نہیں دیکھتے بلکہ پراجیکٹس کی کامیاب تکمیل اور شفاف رپورٹنگ کا ریکارڈ بھی مانگتے ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی مسائل کا حل محض بین الاقوامی وعدوں تک محدود نہیں ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ بین الاقوامی برادری نے مطلوبہ فنانسنگ فراہم نہیں کی، لیکن ساتھ ہی ساتھ مقامی سطح پر ادارہ جاتی صلاحیت کو بہتر بنانا بھی ناگزیر ہے۔ پاکستان کو فنڈز کے حصول کے لیے اپنے مالیاتی انتظام، تکنیکی صلاحیت اور پراجیکٹ کی تیاری کے عمل کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ بین الاقوامی اداروں کا اعتماد بحال ہو سکے اور ملک کو موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔