AI
اقوام متحدہ کی جانب سے مصنوعی ذہانت پر تشویش کا اظہار
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ٹرک نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانیت کے لیے ایک بڑا بقائی خطرہ بن سکتی ہے۔ انہوں نے اس ٹیکنالوجی پر قابو پانے کے لیے فوری اور سخت حفاظتی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے پیر کے روز خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی انسانیت کے لیے ایک بڑا بقائی خطرہ بن سکتی ہے اور اس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے وولکر ٹرک نے کہا کہ انسانوں کو اس وقت اپنے حقوق کے حوالے سے ایسے خطرات کا سامنا ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے اور انتہائی غیرمعمولی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اے آئی کی حکمرانی کی ضرورت کو تو وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس پر عملی اقدامات کہاں ہیں، اور خبردار کیا کہ تاخیر کا فائدہ صرف بڑی ٹیک کمپنیوں اور ان کے مالکان کو پہنچ رہا ہے۔
اس موقع پر وولکر ٹرک نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چند افراد کے پاس مصنوعی ذہانت پر تقریباً لامحدود اختیار ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ اس کی کمپیوٹنگ کی صلاحیت لامحدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ آزادی کی بات کرتے ہیں لیکن قریب سے جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ صرف ہمارے ڈیٹا کا استحصال کرنے کی آزادی ہے۔ حقوق کے سربراہ نے خاص طور پر خبردار کیا کہ ایسی مصنوعی ذہانت جو اپنے ٹیسٹنگ کے ماحول سے فرار حاصل کر لے یا ڈیولپرز کو بلیک میل کرے تاکہ اسے بند نہ کیا جا سکے، وہ اتنی طاقتور ہو چکی ہے کہ اس پر قابو پانا مشکل ہے۔
ان کا اشارہ بظاہر جولائی میں سامنے آنے والے انکشافات کی طرف تھا جن میں بتایا گیا تھا کہ اوپن اے آئی کے ایجنٹس نے مبینہ طور پر کنٹرولڈ ماحول سے فرار ہو کر ہگنگ فیس کے سرورز میں نقب لگائی تھی۔ اس واقعے نے پوری ٹیک دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا اور مصنوعی ذہانت کے لیے سخت ضابطہ اخلاق اور نگرانی کے مطالبات کو پھر سے تازہ کر دیا تھا۔ اینتھروپک، میٹا اور دیگر کمپنیوں نے بھی اے آئی ایجنٹس کی جانچ کے دوران اس طرح کے واقعات کی اطلاع دی ہے۔ وولکر ٹرک نے مزید کہا کہ وہ صنعت کے اندرونی ذرائع کے ان خدشات میں برابر کے شریک ہیں کہ جدید اے آئی انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے حقوق کے سربراہ نے اعلان کیا کہ وہ آنے والے دنوں میں اے آئی کمپنیوں کو خط لکھیں گے تاکہ ان پر زور دیا جا سکے کہ وہ خطرات کو کم کرنے کے لیے فوری طور پر اپنے دائرہ اختیار میں اقدامات کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمیں کم از کم ان ممالک کو جو اے آئی کی میزبانی کر رہے ہیں، ایک مشترکہ لکیر پر اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے تاکہ اس کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملازمتوں کے طریقوں، جمہوریت کے بنیادی اصولوں اور ہمارے ماحول پر اے آئی کے انسانی حقوق کے اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔