Politics
مولانا فضل الرحمٰن کا نئے صوبوں کے قیام اور ملکی صورتحال پر اہم بیان
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ملک میں نئے صوبوں کے جبری نفاذ کے خلاف خبردار کرتے ہوئے ڈھانچے کی تشکیل نو پر زور دیا ہے۔ انہوں نے قومی انتشار کا ذمہ دار نسلی تقسیم اور نظریہ پاکستان کے مقاصد سے انحراف کو قرار دیا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ملک میں نئے صوبوں کے جبری قیام اور نفاذ کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کے اقدام سے ملکی استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کے انتظامی اور سیاسی ڈھانچے کی تشکیل نو کے معاملے پر تمام سیاسی قوتوں کے درمیان سنجیدہ اور جامع بحث ہونی چاہیے تاکہ یکطرفہ فیصلوں سے گریز کیا جا سکے۔ مولانا فضل الرحمٰن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں انتظامی تقسیم اور نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ اپنے ایک بیان میں جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قومی اتحاد کو مضبوط بنانے کی کوششیں اس طرح بار آور ثابت نہیں ہو سکیں جیسی دو قومی نظریے کی بنیاد پر توقع کی جا رہی تھی۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ملک میں بڑھتی ہوئی نسلی تقسیم اور لسانی عصبیتیں معاشرتی انتشار اور پرتشدد واقعات کو ہوا دے رہی ہیں، جس سے قومی یکجہتی کمزور پڑ رہی ہے۔ انہوں نے ملکی معیشت کی موجودہ حالت کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر بھی تنقید کی کہ کس طرح ملکی معاشی بنیادوں کو غیر ملکی امداد اور قرضوں پر استوار کیا گیا، جس نے ملکی خود مختاری کو بھی متاثر کیا۔ سیاسی حلقوں میں مولانا فضل الرحمٰن کے اس بیان کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ وہ ماضی میں بھی ملک کے آئینی اور سیاسی معاملات پر کھل کر بات کرتے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا یہ مؤقف ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی کشمکش کے تناظر میں ایک بڑا اشارہ ہے، جو آنے والے دنوں میں سیاسی مباحث کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صوبوں کی تشکیل نو یا انتظامی یونٹس کا معاملہ ہمیشہ سے حساس رہا ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی جلدی یا جبری کوشش ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔