Politics
جماعت اسلامی کی حکومت سے مذاکرات اور چھ تجاویز پیش
وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے وفد کے درمیان اسلام آباد میں پیٹرولیم لیوی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے اہم مذاکرات ہوئے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی نے حکومت کو چھ مطالبات اور تجاویز پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذاکرات کے باوجود احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اسلام آباد میں وفاقی حکومت کے نمائندوں اور جماعت اسلامی کے وفد کے درمیان اہم مذاکرات کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں بنیادی طور پر ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، پیٹرولیم لیوی اور فیول کی قیمتوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر برقیات اور منصوبہ بندی احسن اقبال اور دیگر حکومتی وزراء نے جماعت اسلامی کے رہنماؤں سے ملاقات کی اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔ حکومتی وفد نے اس بات کا اعادہ کیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام قابلِ عمل تجاویز کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس ملاقات کے دوران جماعت اسلامی کے وفد نے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات اور تجاویز کھل کر رکھیں۔ جماعت اسلامی کی جانب سے حکومت کو مجموعی طور پر چھ اہم تجاویز پیش کی گئیں جن کا مقصد فیول لیوی میں کمی لانا اور عام آدمی کو مہنگائی کے بوجھ سے بچانا ہے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ موجودہ حالات میں عوام مزید ٹیکسوں کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے، اس لیے حکومت کو فوری طور پر توانائی اور ایندھن کے شعبے میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
مذاکرات کے دوران دونوں فریقین کے مابین معاشی صورتحال پر تفصیلی بحث ہوئی تاہم جماعت اسلامی نے واضح کیا کہ حکومتی نمائندگان کے ساتھ بات چیت کا عمل اپنی جگہ جاری رہے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام کے حقوق کے لیے ان کا احتجاجی سلسلہ بھی بیک وقت جاری رہے گا۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے کسی بھی قسم کے سمجھوتے کا ارادہ نہیں رکھتی اور جب تک عوام کو حقیقی ریلیف نہیں ملتا، ان کا سیاسی اور عوامی دباؤ برقرار رہے گا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق فریقین کے درمیان آئندہ بھی اس نوعیت کے رابطے جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے تاکہ کسی متفقہ اور قابلِ عمل لائحہ عمل تک پہنچا جا سکے۔