Pakistan
میر رضا کیس میں نیا موڑ، جوڈیشل کمیشن کی ریکارڈ کی طلبی
کراچی میں میر رضا علی کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن نے اہم ریکارڈ مبینہ طور پر چھپانے پر وضاحت طلب کر لی ہے۔ کمیشن کے روبرو پیش کی گئی سٹیٹمنٹ میں اہم معلومات غائب ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
کراچی کے مشہور میر رضا علی کیس میں تحقیقاتی عمل اس وقت ایک اہم موڑ پر داخل ہو گیا جب جوڈیشل کمیشن نے ریکارڈ مبینہ طور پر چھپانے اور اہم معلومات فراہم نہ کرنے پر سخت وضاحت طلب کر لی۔ کیس کی سماعت کے دوران کمیشن کے سامنے پیش کی جانے والی ایک ابتدائی سٹیٹمنٹ میں انتہائی اہم حقائق اور معلومات کے غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس کے بعد کمیشن نے متعلقہ حکام سے فوری طور پر جواب طلب کیا ہے۔ کمیشن کی کارروائی کے دوران یہ نکتہ بھی زیر بحث آیا کہ ایس ایچ او جوہر کو کس نے مجاز بنایا تھا کہ وہ اس معاملے سے جڑی سی سی ٹی وی فوٹیج کا مشاہدہ کر سکیں یا اس تک رسائی حاصل کریں۔ اس حوالے سے وکیل صفائی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ایس ایچ او جوہر کے اقدامات نے اس پورے مقدمے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور شواہد کی درست فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ مرحوم تاجر میر رضا علی سے متعلق اس کیس میں اب مزید حقائق سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے کیونکہ جوڈیشل کمیشن نے معاملے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے دائرہ کار مزید وسیع کر دیا ہے۔ کمیشن کی جانب سے یہ بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ تمام متعلقہ محکمے اور تفتیشی افسران ریکارڈ میں کسی بھی قسم کی غفلت یا ردوبدل سے گریز کریں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں اور اصل حقائق عوام اور عدالت کے سامنے لائے جا سکیں۔