LIVE
Loading Breaking News...

پی ٹی آئی کا سندھ کی تقسیم اور نئی صوبوں پر ردعمل

News Image
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے خبردار کیا ہے کہ عوام کی رضامندی کے بغیر سندھ کی تقسیم ملک اور وفاق کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نئی صوبے بنانے سے پہلے تمام سیاسی قوتوں میں مکمل اتفاق رائے پیدا کیا جانا چاہیے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عوامی مشاورت اور رضامندی کے بغیر سندھ کی تقسیم کا کوئی بھی عمل ملک کے وفاقی ڈھانچے کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے حساس اور اہم انتظامی امور پر تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے بصورت دیگر اس سے قومی اتحاد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بیرسٹر گوہر خان نے مزید مطالبہ کیا کہ ملک میں نئے صوبے بنانے یا انتظامی اکائیوں میں تبدیلی کے کسی بھی فیصلے سے قبل تمام سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع تر اتفاق رائے کا ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ملک پہلے ہی متعدد معاشی اور سیاسی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے لہذا ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید عدم استحکام کا باعث بنیں۔ واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کی جانب سے ملک میں 12 سے 15 نئے صوبے بنانے کی تجاویز سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ اس تناظر میں پی ٹی آئی نے اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے تمام فیصلے آئینی اور جمہوری دائرہ کار میں ہی کیے جائیں۔ علاوه ازیں، پی ٹی آئی کی قیادت نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ پارٹی بانی عمران خان اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے درمیان ملاقاتوں کے انتظامات کیے جائیں تاکہ موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کا عمل جاری رکھا جا سکے۔ پارٹی رہنماؤں کا ماننا ہے کہ جمہوریت میں باہمی بات چیت اور مفاہمت کے دروازے کبھی بند نہیں ہونے چاہئیں اور سیاسی مسائل کا حل صرف اور صرف افہام و تفہیم میں ہی پوشیدہ ہے۔