LIVE
Loading Breaking News...

حماد اظہر کا بیس روزہ جسمانی ریمانڈ منظور، اے ٹی سی کا فیصلہ

News Image
انسداد دہشتگردی کی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا بیس روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم گزشتہ تین سال سے مفرور تھا جبکہ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ انہیں دو روز قبل ملتان سے حراست میں لیا گیا تھا۔
لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما حماد اظہر کا بیس روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سیاسی حلقوں میں اس گرفتاری پر گرما گرم بحث جاری ہے اور پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ عدالت میں سماعت کے دوران پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کو تفتیش کی غرض سے حراست میں لینا انتہائی ضروری تھا کیونکہ وہ طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے۔ پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ حماد اظہر گزشتہ تین سال سے مختلف مقدمات میں روپوش اور مفرور چلے آ رہے تھے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے تھے۔ دوسری جانب، حماد اظہر کے اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں کا مؤقف اس کے بالکل برعکس ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ حماد اظہر کو آج سے دو روز قبل ملتان سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا اور ان کی گمشدگی یا گرفتاری کے حوالے سے پہلے کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی جا رہی تھیں۔ پی ٹی آئی ترجمان نے اس گرفتاری کو سیاسی انتقام کی ایک اور کڑی قرار دیتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ حماد اظہر کو لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں درج متعدد مقدمات میں پولیس کو تلاش تھا، جن میں احتجاجی مظاہروں اور جلاؤ گھیراؤ کے الزامات شامل ہیں۔ عدالت کی جانب سے بیس روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیے جانے کے بعد اب پولیس ملزم سے ان مقدمات کے حوالے سے تفتیش کرے گی اور آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔ اس پورے واقعے کے بعد سیاسی میدان میں ہلچل مزید تیز ہو گئی ہے اور تحریک انصاف کی قانونی ٹیم نے عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے۔