LIVE
Loading Breaking News...

نئے صوبے اور سندھ اسمبلی: خواجہ آصف کا اہم سیاسی بیان

News Image
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر سندھ اسمبلی کا موقف اس کی قانونی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ انہوں نے آئینی تقاضوں کے تحت ملک میں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے جاری سیاسی بحث پر کھل کر بات کی ہے اور واضح کیا ہے کہ سندھ اسمبلی کا کوئی بھی موقف یا قرار داد اس آئینی عمل کے نفاذ کو نہیں روک سکتی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کے قیام کے مطالبات شدت اختیار کر رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس موضوع پر گرما گرم بحث جاری ہے اور مختلف جماعتیں اس پر اپنے تحفظات اور خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔ خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان کے اندر وہ تمام طریقہ کار موجود ہیں جن کے تحت پارلیمنٹ اور وفاقی حکومت فیصلے کرتی ہے۔ صوبائی اسمبلیوں کے تحفظات اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، لیکن حتمی اختیار اور آئینی ذمہ داری وفاق اور پارلیمنٹ کے پاس ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر ملک کی بہتری اور عوام کی سہولت کے لیے نئے صوبے بنانا ضروری ہیں، تو آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اس پر پیش رفت کی جائے گی، اور کسی ایک صوبے کی اسمبلی کا اعتراض اس قومی عمل کو مکمل طور پر بند نہیں کر سکتا۔ دوسری جانب، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خواجہ آصف کے اس بیان سے وفاق اور سندھ کے سیاسی منظرنامے میں ایک نئی بحث چھڑ سکتی ہے۔ بالخصوص سندھ میں حکمران جماعت اس نوعیت کے بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کرتی رہی ہے کیونکہ ان کا موقف ہوتا ہے کہ اس قسم کے معاملات میں صوبائی خودمختاری کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔ صوبے کے حقوق اور آئینی اختیارات کے تحفظ کے لیے سندھ اسمبلی کی قراردادیں ہمیشہ سے مرکزی اہمیت کی حامل رہی ہیں۔ آئندہ دنوں میں اس مسئلے پر مزید سیاسی جوڑ توڑ اور پارلیمانی مباحثے متوقع ہیں۔ تمام متعلقہ سیاسی جماعتیں اس حساس معاملے پر اپنی حکمت عملی تیار کر رہی ہیں تاکہ عوام کے سامنے اپنا موقف واضح رکھا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام ایک پیچیدہ سیاسی اور آئینی عمل ہے جس کے لیے وسیع تر سیاسی اتفاق رائے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وفاق اور اکائیوں کے درمیان کشیدگی پیدا نہ ہو۔