LIVE
Loading Breaking News...

مithi سول اسپتال میں آٹھ ماہ کے دوران 480 نومولود بچوں کی ہلاکت

News Image
سندھ کے علاقے مithi کے سول اسپتال میں صحت کی ناقص سہولیات اور غذائی قلت کے باعث دل دہلا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ صرف آٹھ ماہ کے عرصے میں 480 نومولود بچوں کے انتقال کی تصدیق کی گئی ہے جس پر عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
صوبہ سندھ کے پسماندہ علاقے تھرپارکر کے ضلعی ہیڈ کوارٹر اسپتال مithi سے انتہائی تشویشناک اور دل دہلا دینے والے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق مithi سول اسپتال میں رواں سال کے صرف پہلے آٹھ ماہ کے دوران 480 نومولود بچے زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔ یہ ہلاکتیں علاج معالجے کی ناکافی سہولیات، نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں مبینہ غفلت، طبی عملے کی کمی اور خطے میں شدید غذائی قلت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسپتال میں ایمرجنسی اور نرسری وارڈ کی صورتحال انتہائی ابتر ہے جہاں اکثر اوقات ڈاکٹرز اور ادویات کی عدم دستیابی کا سامنا رہتا ہے۔ تھرپارکر کے دور دراز علاقوں سے آنے والے غریب خاندان اپنے بیمار بچوں کو بروقت طبی امداد دلانے میں ناکام رہتے ہیں کیونکہ مقامی سطح پر بنیادی صحت کے مراکز یا تو بند پڑے ہیں یا وہاں طبی عملہ غائب رہتا ہے۔ اس سنگین صورتحال نے سندھ حکومت اور محکمہ صحت کی کارکردگی پر ایک بار پھر شدید سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ عوامی نمائندوں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس المناک صورتحال کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر سال تھر میں بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری رہتا ہے لیکن اربابِ اختیار کی جانب سے صرف وقتی بیانات کے علاوہ کوئی عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ مithi اسپتال میں فوری طور پر ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی، جدید طبی آلات کی فراہمی اور غفلت کے مرتکب عملے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔