Pakistan
میر رضا کیس اور پنجاب فارنزک لیب کی آئی فون ڈیٹا تک رسائی میں ناکامی
پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی میر رضا کیس میں ملوث آئی فون کا ڈیٹا نکالنے میں ناکام رہی ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق کیس کی تفتیش میں ایپل واچ سے ملنے والا ڈیٹا زیادہ اہمیت کا حامل نہیں قرار دیا گیا ہے۔
لاہور: میر رضا کیس کی تفتیش میں اہم تکنیکی مشکلات کا انکشاف سامنے آیا ہے جہاں پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی (PFSA) کو تحقیقات کے دوران ایک اہم پیش رفت میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ ذرائع کے مطابق فرانزک ماہرین اس مقدمے سے منسلک آئی فون تک رسائی حاصل کرنے اور اس میں موجود ڈیجیٹل ڈیٹا نکالنے میں ناکام رہے ہیں۔ سکیورٹی پروٹوکولز اور جدید انکرپشن کی وجہ سے فون کو کھولنا یا اس کا بیک اپ حاصل کرنا انتہائی پیچیدہ ثابت ہوا ہے۔ دوسری جانب، اس کیس میں برآمد کی جانے والی ایپل واچ کا ڈیٹا بھی تکنیکی جائزہ لینے کے بعد تفتیشی حکام کی جانب سے غیر اہم قرار دیا گیا ہے، جس سے کیس کی سمت پر بھی اثر پڑا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق تفتیشی ٹیمیں اس ڈیجیٹل رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے مختلف متبادل ذرائع اور بین الاقوامی ماہرین کی مدد لینے پر غور کر رہی ہیں تاکہ مقدمے کے حقائق تک پہنچا جا سکے۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ماننا ہے کہ جدید ڈیجیٹل آلات میں موجود شواہد کسی بھی کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس صورتحال میں آئی فون سے ڈیٹا حاصل کرنے کی ناکامی تفتیش کاروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ اس آلے میں اہم مواصلاتی پیغامات اور لاگز ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں سمارٹ فونز میں موجود جدید سکیورٹی فیچرز تفتیشی اداروں کے لیے پیچیدگیاں پیدا کر رہے ہیں۔ میر رضا کیس کے حوالے سے قانونی اور تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایپل واچ کا ڈیٹا زیادہ مددگار ثابت نہیں ہو سکا، تاہم آئی فون کے اندر موجود معلومات کیس کے حتمی فیصلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی تھیں۔ پنجاب فارنزک لیب کے ترجمان نے اس معاملے پر مزید تکنیکی جانچ پڑتال جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ طریقے سے ہارڈویئر یا سافٹ ویئر کی مدد سے مطلوبہ ڈیٹا ریکور کیا جا سکے۔
اس پیش رفت کے بعد عدالتی کارروائی اور تفتیش کے اگلے مراحل پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ وکلاء اور قانونی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ڈیجیٹل شواہد کی عدم موجودگی میں استغاثہ کو دیگر دستاویزی اور بیانی شواہد پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا۔ کیس کی آئندہ سماعت پر تفتیشی افسران کی جانب سے فارنزک رپورٹ عدالت میں جمع کرائے جانے کی توقع ہے، جہاں اس تکنیکی ناکامی اور اس کے اثرات پر مزید قانونی بحث کی جائے گی۔