LIVE
Loading Breaking News...

میر رضا قتل کیس: جبران ناصر کا سندھ حکومت اور پولیس پر اہم الزام

News Image
وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر نے میر رضا کیس میں سندھ حکومت اور پولیس پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بااثر حلقے اور پولیس حکام ملوث قاتلوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
کراچی میں پیش آنے والے ہلاکت خیز میر رضا کیس کے حوالے سے انسانی حقوق کے معروف وکیل اور کارکن محمد جبران ناصر نے سندھ حکومت اور صوبائی پولیس پر انتہائی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اندوہناک واقعے کے ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے بجائے ریاستی مشینری اور بااثر شخصیات کی جانب سے انہیں مسلسل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے جو کہ انتہائی قابلِ تشویش ہے۔ جبران ناصر کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کو کافی وقت گزر جانے کے باوجود متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی میں جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ ملزمان فرار ہونے یا اپنے خلاف ثبوت مٹانے میں کامیاب ہو سکیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پولیس تفتیش میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر اثر و رسوخ استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے شفاف تحقیقات کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے اعلیٰ عدلیہ اور متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس کیس کا فوری طور پر نوٹس لیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ سیاسی یا انتظامی دباؤ سے بالاتر ہو کر میر رضا کے اصل قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے بھی جبران ناصر کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر انصاف فراہم نہ کیا گیا تو بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی کیونکہ قانون کی بالادستی اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔