LIVE
Loading Breaking News...

مشرق وسطیٰ کشیدگی: تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی کے خدشات

News Image
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازعے کے طویل ہونے کے خطرات کے پیش نظر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سپلائی میں خلل پڑنے کے خدشات نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے جس سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کا طویل ہونا اور اس کے نتیجے میں سپلائی کے حوالے سے پیدا ہونے والے شدید خدشات ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے توانائی کی عالمی مارکیٹ کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس سے خام تیل کی قیمتیں چھ ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید کشیدہ ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل پر پڑے گا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دھمکیوں کے بعد تجارتی حلقوں میں خوف پایا جاتا ہے کہ تیل کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستے اور تنصیبات متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان خدشات نے منڈی میں ہلچل مچا دی ہے جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس بھی اس غیر یقینی صورتحال کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔ جاپانی ین کی قدر میں اضافے اور خطے سے آنے والی جنگی اور دفاعی رپورٹس نے سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی کا عنصر مزید گہرا ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگرچہ بعض اوقات مارکیٹ میں معمولی کمی یا اتار چڑھاؤ بھی دیکھا جاتا ہے، جیسا کہ ڈبلیو ٹی آئی (WTI) کی قیمتوں میں کچھ اتار چڑھاؤ ریکارڈ کیا گیا، لیکن مجموعی طور پر رجحان خطرات کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ سیاسی و عسکری صورتحال عالمی منڈیوں کو طویل عرصے تک متاثر رکھ سکتی ہے۔ حکومتیں اور توانائی کے ادارے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ سپلائی کے ممکنہ تعطل سے کیسے نمٹا جائے تاکہ عالمی سطح پر ایندھن کی شدید قلت یا قیمتوں کے طوفان کو روکا جا سکے۔