World
برطانیہ مغربی کنارے کی بستیوں سے تجارت پر پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے
برطانوی حکومت کے توقع ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے آنے والے سامان کے خلاف نئی تجارتی پابندیوں کا اعلان کرے گی۔ خارجہ امور کے سیکرٹری ایڈ ملی بینڈ منگل کے روز اس حوالے سے اہم تجاویز پیش کریں گے۔
برطانوی حکومت کی جانب سے یہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والے سامان اور اشیا کے ساتھ تجارت پر سخت پابندیوں کا اعلان کرے گی۔ اس ضمن میں برطانوی حلقوں میں تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے کے گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، خارجہ امور کے ذمہ دار رہنما ایڈ ملی بینڈ منگل کے روز ان تجاویز کو باضابطہ طور پر پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے پیش کریں گے۔ ان تجاویز کا بنیادی ہدف ان اشیا کو بنانا اور روکنا ہے جو مقبوضہ علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں سے برآمد کی جاتی ہیں، جس سے برطانیہ کی خطے میں تجارتی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی عکاسی ہوتی ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب عالمی سطح پر مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی توسیع اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے اس بات کا مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ بستیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کو ختم یا محدود کیا جائے تاکہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے برطانوی حکومت کا یہ متوقع قدم اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے برطانیہ اور اسرائیل کے دو طرفہ تعلقات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، تاہم برطانوی وزارتِ خارجہ اس بات پر زور دے رہی ہے کہ بین الاقوامی قانون کے احترام اور خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ منگل کو متوقع اعلان کے بعد اس پالیسی کے نفاذ اور اس کے تجارتی اثرات کی تفصیلات مزید واضح ہو سکیں گی۔