LIVE
Loading Breaking News...

انگلینڈ میں طبی غفلت کا شکار نوجوان کا دل دہلا دینے والا واقعہ

News Image
انگلینڈ کے ہسپتالوں کے ایم اینڈ ای شعبوں میں بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی میں ناکامی کے باعث طبی غفلت کے دعووں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اولی نامی نوجوان کا کیس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح بروقت اور درست طبی امداد نہ ملنے سے ایک نوجوان کی پوری زندگی متاثر ہو جاتی ہے۔
برطانیہ میں طبی غفلت کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کی تازہ ترین مثال بتیس سالہ نوجوان اولی کا دردناک کیس ہے۔ بی بی سی کے ایک حالیہ تجزیے کے مطابق انگلینڈ کے ہسپتالوں کے ایم اینڈ ای یعنی حادثات اور ایمرجنسی کے شعبوں میں بنیادی طبی اصولوں اور تقاضوں کو نظر انداز کرنے کی شکایات مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ اولی کے والدین کا کہنا ہے کہ اگر ہسپتال انتظامیہ بروقت درست فیصلے کرتی اور بنیادی طبی تقاضے پورے کیے جاتے تو ان کے بیٹے کی زندگی اس طرح تباہ نہ ہوتی۔ رپورٹس کے مطابق انگلینڈ بھر میں کلینیکل نیگلیجنس یعنی طبی غفلت کے دعووں اور مقدمات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ صحت کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمرجنسی وارڈز میں عملے کی کمی، کام کا شدید دباؤ اور مناسب نگرانی کا فقدان ایسے اہم عوامل ہیں جو سنگین طبی غلطیوں کا سبب بنتے ہیں۔ اولی کا کیس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جہاں معمولی سمجھی جانے والی کوتاہیوں نے ایک جوان انسان کا مستقبل ہمیشہ کے لیے تاریک کر دیا۔ متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ نیشنل ہیلتھ سروس کو اس معاملے کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے اور ہسپتالوں میں احتساب کے نظام کو مزید شفاف بنایا جائے۔ طبی ماہرین نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ ایم اینڈ ای کے شعبوں میں تربیت یافتہ عملے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو اس نوعیت کے صدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔