Technology
چپ کی قلت اور کینسر کا علاج، برطانوی ٹیک باس کا اہم بیان
برطانیہ کے سرکردہ چپ ڈیزائنر ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ جدید کمپیوٹر ٹیکنالوجی کینسر کے موثر علاج تلاش کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ تاہم، عالمی سطح پر کمپیوٹر چپس کی قلت کی وجہ سے ڈی این اے مارکرز اور کینسر کے باہمی تعامل کی موڈلنگ کا عمل بری طرح سست روی کا شکار ہو گیا ہے۔
برطانیہ کے معروف چپ ڈیزائننگ ادارے آرم (Arm) کے سربراہ نے ایک اہم انکشاف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کینسر کے موثر علاج اور ادویات کی تیاری کا عمل اس وقت شدید عالمی قلت کا شکار کمپیوٹر چپس کی وجہ سے سست پڑ گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ جدید کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ کینسر کی پیچیدہ بیماریوں کا قلع قمع کر سکیں، لیکن ہارڈ ویئر کی عدم دستیابی اس راہ میں ایک بڑی دیوار بن گئی ہے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق، آرم کے چیف کا کہنا ہے کہ فی الحال سائنسدانوں کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ جدید کمپیوٹرز کی مدد سے یہ ماڈلنگ کر سکیں کہ انسانی جسم میں کوئی خاص ڈی این اے مارکر کینسر کی بیماری سے کس طرح متاثر ہوتا ہے۔ اس نوعیت کی پیچیدہ سائنسی تحقیق کے لیے انتہائی طاقتور پروسیسرز اور سپ کمپیوٹرز کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس وقت مارکیٹ میں آسانی سے دستیاب نہیں ہیں اور چپس کی سپلائی چین میں تعطل کے باعث محققین کو مشکلات کا سامنا ہے۔
تاہم، اس چیلنج کے باوجود تکنیکی ماہرین مستقبل کے حوالے سے کافی پرامید ہیں۔ برطانوی ٹیک باس کا پختہ یقین ہے کہ کمپیوٹر سائنس بالآخر ان تمام پیچیدہ سائنسی گتھیوں کو سلجھا لے گی اور کینسر کے خلاف جنگ میں ایک فیصلہ کن موڑ آئے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ جیسے ہی ہارڈ ویئر اور چپ سازی کے بحران پر قابو پایا جائے گا، مصنوعی ذہانت کی رفتار دگنی ہو جائے گی اور میڈیکل سائنس کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔